روڈا اہلکاروں پر تشدد کا مقدمہ: عبدالعلیم خان، شعیب صدیقی سمیت تمام ملزمان بری

روڈا اہلکاروں پر تشدد کا مقدمہ: عبدالعلیم خان، شعیب صدیقی سمیت تمام ملزمان بری

لاہور : انسدادِ دہشتگردی عدالت نے روڈا (راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کے اہلکاروں پر تشدد کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما اور موجودہ ایم این اے عبدالعلیم خان، سابق رکن پنجاب اسمبلی شعیب صدیقی سمیت دیگر تمام ملزمان کو بری کر دیا ہے۔

انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے ملزمان کی جانب سے دائر بریت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔

 مقدمے کی تفصیلات
تھانہ چونگ پولیس نے عبدالعلیم خان، شعیب صدیقی اور دیگر کے خلاف روڈا اہلکاروں پر مبینہ تشدد کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا، جس کا چالان عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔دورانِ سماعت، شعیب صدیقی اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ عبدالعلیم خان کی طرف سے ایک روزہ حاضری سے معافی کی درخواست دائر کی گئی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے روڈا کی اراضی کے معاملے پر جھگڑے کے دوران اتھارٹی کے اہلکاروں پر تشدد کیا، تاہم عدالت نے شواہد کی عدم موجودگی کے باعث ملزمان کو بری کر دیا۔

 قانونی ماہرین کا مؤقف
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے بریت کا فیصلہ اس بات کا عندیہ ہے کہ مقدمے میں ناکافی شواہد اور شک کی بنیاد پر فائدہ ملزمان کو دیا گیا، جو کہ فوجداری مقدمات میں انصاف کا بنیادی اصول ہے۔

 پس منظر
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب روڈا کی جانب سے زمینوں کے حصول اور ترقیاتی منصوبوں پر کارروائیاں جاری تھیں، جن پر مقامی افراد اور بعض سیاسی شخصیات نے اعتراضات کیے تھے۔ اس دوران مبینہ طور پر جھگڑا ہوا اور تشدد کا الزام سامنے آیا۔

 نتیجہ
اس مقدمے میں عدالت کا فیصلہ عبدالعلیم خان اور ان کے ساتھیوں کے لیے ایک قانونی ریلیف ثابت ہوا ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد کیس ختم کر دیا گیا ہے اور اب کوئی مزید کارروائی ان کے خلاف نہیں کی جا سکتی۔