کوئٹہ اور لاہور میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے شہریوں کو پریشان کردیا، کوئٹہ میں آٹا 15 روپے فی کلو مہنگا ہونے کے بعد 160 روپے کلو ہوگیا، جبکہ لاہور میں 15 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2350 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق کوئٹہ میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں 300 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد تھیلے کی قیمت 2900 روپے سے بڑھ کر 3200 روپے ہوگئی۔ شہر میں مارچ سے اب تک آٹے کی فی کلو قیمت میں 40 روپے جبکہ 20 کلو تھیلے کی قیمت میں 800 روپے اضافہ ہوچکا ہے۔دوسری جانب کوئٹہ کے نواحی علاقوں میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3250 روپے تک فروخت کیا جارہا ہے، جبکہ سرکاری طور پر اس کی قیمت 2640 روپے مقرر ہے۔ سرکاری نرخ اور بازار میں فروخت ہونے والی قیمت کے درمیان نمایاں فرق نے شہریوں کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے اور روٹی کی سرکاری نرخوں پر فروخت یقینی بنائی جائے اور قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
لاہور میں بھی آٹے کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
لاہور کی اوپن مارکیٹ میں بھی گندم اور آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے صارفین کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق گندم کی قیمت 4700 روپے فی من سے بڑھ کر 5400 روپے فی من ہوگئی ہے، جبکہ 15 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2350 روپے تک پہنچ گئی ہے۔بڑھتی ہوئی قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر کم آمدنی والے گھرانے ہورہے ہیں، جن کے لیے روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیائے خورونوش خریدنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آٹے سمیت دیگر ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے ریلیف مل سکے۔