روسی وزیرِ خارجہ کا الزام: ٹرمپ کا مشرقِ وسطیٰ امن پلان غزہ تک محدود، فلسطینی ریاست کے حوالے سے مبہم

روسی وزیرِ خارجہ کا الزام: ٹرمپ کا مشرقِ وسطیٰ امن پلان غزہ تک محدود، فلسطینی ریاست کے حوالے سے مبہم

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کے لیے تیار کردہ امن منصوبہ صرف غزہ پٹی تک محدود ہے۔

انہوں نے ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا یہ امن پلان فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے بہت مبہم ہے اور اس میں مغربی کنارے کے کردار کے بارے میں واضح وضاحت ہونی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ مشرقِ وسطیٰ کے امن عمل کے لیے اہم ہے اور اس پر عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آ چکا ہے۔ فلسطینی قیادت نے اس منصوبے کو پہلے ہی مسترد کر دیا ہے، جبکہ اسرائیل نے اسے ’تاریخی موقع‘ قرار دیا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اپنا امن پلان پیش کیا، جس پر عالمی برادری اور خطے کے مختلف فریقین کی طرف سے مختلف ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ فلسطینی حکام نے اس منصوبہ کو فلسطینی حقوق کے خلاف قرار دیا ہے، جبکہ اسرائیلی حکام نے اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے، جس سے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تناؤ بڑھ رہا ہے۔