اسرائیلی حملے جاری، غزہ میں مزید 79 فلسطینی شہید، امریکا کی فلسطینی ریاست کے حامی ممالک کو دھمکیاں

اسرائیلی حملے جاری، غزہ میں مزید 79 فلسطینی شہید، امریکا کی فلسطینی ریاست کے حامی ممالک کو دھمکیاں

اسرائیلی فوج کی جارحیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

 غزہ کے مختلف علاقوں پر تازہ حملوں میں مزید 79 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

غزہ کی صورتحال
میڈیا رپورٹس کے مطابق صہیونی ریاست نے حملوں کے ساتھ ساتھ غزہ میں بڑے پیمانے پر انخلا کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ شہری دفاع کے مطابق اب بھی تقریباً دو لاکھ فلسطینی شہر میں موجود ہیں، جبکہ صرف 12 فیصد علاقہ صہیونی فوج کے کنٹرول سے باہر ہے۔اسرائیلی دھمکیوں کے بعد سیکڑوں خاندان جان بچانے کے لیے سمندر کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں 10 لاکھ فلسطینی جنوبی غزہ کی طرف دھکیل دیے جائیں گے۔ادارہ "کوگاٹ" کے ایک افسر نے بتایا کہ اب تک 70 ہزار فلسطینی شمالی غزہ چھوڑ چکے ہیں، جلد ہی ایک نام نہاد "انسانی ہمدردی پر مبنی زون" کا اعلان کیا جائے گا جو وسطی غزہ کے کیمپوں سے ساحلی علاقے المواصی تک پھیلا ہوگا۔غزہ کی بندرگاہ بھی پناہ گزین کیمپ میں تبدیل ہو چکی ہے، جہاں بے گھر فلسطینی خیموں میں مقیم ہیں اور خوراک، پانی و دیگر بنیادی سہولتوں کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

مغربی کنارے میں کارروائیاں
اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں بھی اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔طولکرم کے علاقے ابو صفیہ میں متعدد خاندانوں کو گھر خالی کرنے کے احکامات دیے گئے۔قصبے عنابتا اور جنوبی علاقے الراس میں چھاپے مار کر گھروں کی تلاشی لی گئی۔کارروائیوں کے دوران 4 نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔
عالمی ردعمل اور امریکا کا مؤقف
دوسری جانب امریکا نے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے والے ممالک کو دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔ خبر ایجنسی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے والے ممالک کو سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔برطانیہ سمیت متعدد ممالک پہلے ہی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔فرانس، کینیڈا، آسٹریلیا اور بلجیئم بھی ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والوں میں شامل ہیں۔امریکا نے ان ممالک کو واضح پیغام دیا ہے کہ انہیں اس فیصلے پر سفارتی اور اقتصادی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔