اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے حماس کے ہتھیار ڈالنے اور اسرائیل کے غزہ سے انخلا سے متعلق اعلان کردہ معاہدے کو حالیہ دنوں کی اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ مزید جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
شام، اردن اور قبرص کے اپنے حالیہ دوروں کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے زور دیا کہ خطے میں ہر محاذ پر جاری لڑائی فوری طور پر بند ہونی چاہیے تاکہ امن کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے۔انہوں نے اسرائیل اور حماس دونوں پر زور دیا کہ وہ طے شدہ معاہدے پر مکمل اور دیانتداری سے عمل درآمد کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے اہداف کے حصول کے لیے ایک واضح روڈ میپ کا اعلان کیا جا چکا ہے، جس پر بغیر کسی شک، ہچکچاہٹ یا سبوتاژ کی کوشش کے مکمل عمل ہونا چاہیے۔دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بھی غزہ امن منصوبے کے تحت بورڈ آف پیس کی جانب سے تخفیفِ اسلحہ کے عمل میں ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم پیش رفت کے حصول میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ خصوصی داد کے مستحق ہیں۔وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت خطے میں دیرپا امن، استحکام اور انسانی بحران کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔