امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کے بعد مشرق وسطیٰ کے دورے کے اگلے مرحلے میں قطر پہنچ گئے، جہاں انہوں نے دوحہ میں میڈیا سے گفتگو اور قطر کے شاہی محل میں اہم ملاقاتیں کیں۔
صدر ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو:
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کا مشرق وسطیٰ کا یہ دورہ اسرائیل کے مفاد میں ہے اور اسرائیل کو سائیڈ لائن کرنا مقصد نہیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ شام کے صدر سے ملاقات خوشگوار رہی اور ان پر سے پابندیاں اٹھانے کے حوالے سے اسرائیل کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا:"شام کے صدر بہترین انسان ہیں، انہیں موقع دینا مناسب سمجھا۔"
قطر کے شاہی محل میں ملاقاتیں:
صدر ٹرمپ نے قطری قیادت سے ملاقات کی۔انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک سے امریکا کے بہتر تعلقات اسرائیل کے لیے فائدہ مند ہیں۔
ایران، ترکیہ اور عالمی سفارتکاری:
ایران ڈیل کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا:"اگر ایران نے درست فیصلہ نہ کیا تو آئندہ حالات سازگار نہیں ہوں گے۔"ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ترک صدر سے شام پر پابندیاں اٹھانے کے معاملے پر بات کی اور ترک صدر نے اسے "شام کے لیے بہترین موقع" قرار دیا۔صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ روسی صدر چاہتے ہیں کہ وہ ترکیہ آئیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ترکیہ میں یوکرین-روس جنگ کے خاتمے کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں شرکت پر غور کر رہے ہیں۔
تجزیہ:
صدر ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ اور ترکیہ پر بڑھتا ہوا سفارتی فوکس ایک طرف شام پر عالمی پابندیوں کے ممکنہ خاتمے کی طرف اشارہ کرتا ہے، تو دوسری طرف اسرائیل، ایران اور روس جیسے فریقین کو سفارتی دائرے میں قریب لانے کی کوشش کا بھی عکاس ہے۔ ان بیانات سے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئی جہت جنم لے سکتی ہے۔