پارٹی لائن کے خلاف ووٹ انحراف ہے، مگر ضمیر کے مطابق ووٹ دینے کی اجازت:اسحاق ڈار

پارٹی لائن کے خلاف ووٹ انحراف ہے، مگر ضمیر کے مطابق ووٹ دینے کی اجازت:اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم و وزیراخارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ منحرف ہونے کے حوالے سے ان کے خیال میں کلاز کلیئر ہے۔

 انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دینا انحراف ہے، مگر ضمیر کے مطابق ووٹ دینے کو وہ شمار کرتے ہیں۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ رکن کو معلوم ہوتا ہے کہ انحراف کی قیمت کیا ہوتی ہے، اور سیف اللہ ابڑو کو بھی معلوم تھا کہ انحراف کی صورت میں قیمت ادا کرنی ہوگی، لیکن اس کے باوجود اُس نے اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ جب تک تحریری طور پر استعفی نہیں آتا، کسی بھی اعلان کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، کیونکہ جب تک الیکشن کمیشن سے رکنیت کی ڈی نوٹیفکیشن نہیں ہوتی، اُس وقت تک وہ رکنیت برقرار رہتی ہے۔ اور پروسیجر مکمل ہونے تک، سیف اللہ ابڑو ایوان کا رکن ہی رہیں گے۔اسحاق ڈار نے پی ٹی آئی کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کا سیاست کرنا ہوتا ہے، اور پھر ان کی ویڈیوز بن کر اڈیالہ جیل تک پہنچ جاتی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی عزائم اور سچائی کے بیچ ایک واضح فرق ہے۔