امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کراچی کے ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ آئین کے مطابق اور عوامی رائے سے جو نئے یونٹس بن سکتے ہیں، وہ بننے چاہئیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ نئے یونٹس کے معاملے میں آئین سے ماورا کوئی اقدام نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ جو حکومت عوام کی رائے کے خلاف کام کرتی ہے، وہ کسی بھی اچھے آئیڈیا کو بھی صحیح طریقے سے آگے نہیں لے جا سکتی۔حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ جب حکومت لوگوں کی مرضی کے مطابق فیصلے نہیں کرتی، تو اعتماد کا بحران پیدا ہوتا ہے، جس سے نظام بے قابو ہو جاتا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اب تو یہ مسئلہ خود سسٹم کے مرکزی کرداروں نے بھی تسلیم کر لیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پورے فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا ضروری ہے اور تمام اداروں کو اپنے آئین کے مطابق کام کرنا چاہئے تاکہ مسائل حل ہو سکیں۔انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف 16 اگست کو چاروں صوبوں میں احتجاج کیا جائے گا، جس میں لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس اور سندھ میں گورنر ہاؤس پر دھرنے دیے جائیں گے۔حافظ نعیم الرحمان نے میر رضا کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کا پورا نظام اس کیس میں بے نقاب ہو گیا ہے، اور اگر کسی پر دباؤ ہے تو اسے سامنے آنا چاہئے۔
اس کے علاوہ، حافظ نعیم نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ امت مسلمہ کے اتحاد کی اہم پیش رفت ہے، اور ایران، مصر، قطر سمیت دیگر مسلم ممالک کو بھی اس میں شامل کیا جانا چاہئے۔انہوں نے پیٹرولیم کی قیمتوں اور لیوی سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ سوال کرتے ہیں کہ پیٹرول سستا کیسے ہوگا، انہیں پڑھنا چاہئے کیونکہ جہالت پر مبنی بیانات سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ 80 روپے کی لیوی کا پیٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں، یہ ایک علیحدہ ٹیکس ہے جو اسٹوریج کیپیسٹی بڑھانے کے لیے لگایا گیا تھا تاکہ ملک کی ریفائنری صلاحیت بہتر ہو سکے۔حافظ نعیم نے بتایا کہ حکومت نے 8 ہزار ارب روپے سے زیادہ لیوی وصول کی ہے، جن میں سے اگر صرف ڈیڑھ سے دو ہزار ارب روپے بھی خرچ کیے جاتے تو پاکستان کا امپورٹ بل کئی بلین ڈالر کم ہو جاتا، مگر اس رقم کا کوئی خاطر خواہ استعمال نہیں ہوا۔