بھارت کا سندھ طاس معاہدے سے انحراف کھلی آبی دہشتگردی ہے: سابق وزیر ابراہیم مراد

بھارت کا سندھ طاس معاہدے سے انحراف کھلی آبی دہشتگردی ہے: سابق وزیر ابراہیم مراد

لاہور: سابق وفاقی وزیر ابراہیم مراد نے اپنے ایک سخت ردعمل میں کہا ہے کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدے سے انحراف اور اس کی مسلسل خلاف ورزی کھلی آبی دہشتگردی کے مترادف ہے، جو نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

ابراہیم مراد نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے پاکستان کو ماحولیاتی، زرعی اور معاشی بحرانوں میں دھکیلنے کی سازش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے اپنی جارحانہ پالیسیوں کو نہ روکا تو کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی، زراعت اور معیشت بری طرح متاثر ہو گی۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی آبی دہشتگردی پر خاموش نہ رہے بلکہ فوری مذمتی اور عملی اقدام کرے تاکہ خطے کو ایک بڑے انسانی المیے سے بچایا جا سکے۔ابراہیم مراد نے مزید کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی کے ہر پہلو پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملکی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔