وفاق نے بجٹ سے قبل وعدے سے انحراف کیا، سندھ کو 1900 کی بجائے 961 ارب دیے جا رہے ہیں، مراد علی شاہ

وفاق نے بجٹ سے قبل وعدے سے انحراف کیا، سندھ کو 1900 کی بجائے 961 ارب دیے جا رہے ہیں، مراد علی شاہ

کراچی (ویب ڈیسک): وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ حکومت کا 17واں بجٹ پیش کر دیا ہے، مگر بجٹ سے صرف ایک دن قبل وفاق کی جانب سے فنڈز میں کٹوتی کا خط ملا، جو قابلِ فہم نہیں ہے۔

مراد علی شاہ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت نے پہلے وعدہ کیا تھا کہ 1900 ارب روپے دیے جائیں گے جس پر صوبے نے اپنا بجٹ تیار کیا، مگر 12 جون کو موصول ہونے والے خط میں کہا گیا کہ صرف 961.7 ارب روپے دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ سندھ کو پہلے ہی 422.3 ارب روپے کم مل چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ "این ایف سی کے پیسے خرچ نہ کرنے کا بھی کہا گیا" جبکہ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ہمیں 299 ارب روپے کا سرپلس دکھانا تھا۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ جب وفاق وعدے پر قائم نہ رہے تو ترقیاتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں کیونکہ تنخواہیں روکی نہیں جا سکتیں۔

ایرانی حملے پر موقف اور اسرائیلی دہشتگردی کی مذمت
وزیر اعلیٰ نے ایران پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دہشتگرد ملک اسرائیل کی کھلی جارحیت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "ایسے اہم معاملے پر عالمِ اسلام سمیت ہر باشعور انسان بات کر رہا ہے"۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کے ممبران نے ایران کے حق میں اور اسرائیلی دہشتگردی کے خلاف قرارداد منظور کروائی، اور اس میں رخنہ ڈالنے والوں کی مذمت کی۔

ترقیاتی منصوبے، کراچی کے لیے 236 ارب روپے مختص
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے اس سال 1460 جاری اسکیمیں مکمل کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ صاف پانی کے منصوبوں پر 90 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ کراچی کے لیے 236 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شروع کیے گئے منصوبے پی ایس ڈی پی کا حصہ نہیں ہیں۔ بسوں، ڈی سالینیشن پلانٹس، مرغی خانہ برج، کورنگی کازوے، جام صادق پل، حب ڈیم سمیت دیگر منصوبے الگ سے جاری ہیں۔انہوں نے اعتراف کیا کہ انجنیئرز کی قلت کے باعث بعض میگا اسکیمیں اسی سال مکمل کرنا ممکن نہیں، تاہم حکومت 12 اسکیموں پر ساڑھے 17 ارب روپے کی لاگت سے کام جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ مزید دو اسکیمیں بھی شروع کی جائیں گی۔