کسی کاباپ بھی18ویں ترمیم ختم نہیں کرسکتا‘دہشتگردی کو ختم کرنا ہوگا بلاول بھٹو

آئینی ترمیم کی منظوری کثرت رائے  نہیں،اتفاق رائے سے ہوتی ہے، فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دے رہے ہیں،اپوزیشن کا صرف یہ کام نہیں  اپنے لیڈرکیلئے رونا دھونا رکھے، اپوزیشن کا کام ہے  حکومت پر نظر رکھے
 اپوزیشن کو قانون سازی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، ن لیگ، اور پی پی نے افتخار چودھری کے سوموٹوز کو بھگتا، آج ہم ماضی کی غلطی کو درست کرنے جارہے ہیں، 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اب کوئی ازخود نوٹس نہیں ہوگا
 میثاق جمہوریت میں کئے وعدے پورے کررہے ہیں ، فیلڈمارشل کی کارکردگی کو پوری دنیا میں سراہا جارہا ہے، دہشتگردی اور ملک دشمنوں کے خلاف سب کو یکجا ہونا ہوگا: چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی  کا قومی اسمبلی میں خطاب
اسلام آباد (آئی این پی)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے  کسی کا باپ بھی 18 ویں ترمیم ختم نہیں کرسکتا، آئینی ترمیم کی منظوری کثرت رائے سے نہیں،اتفاق رائے سے ہوتی ہے، فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دے رہے ہیں۔قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج ہم جو آئینی ترمیم لارہیہیں،ہمارے پاس اکثریت ہے، کسی کا باپ بھی 18 ویں ترمیم کو ختم نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کی منظوری کثرت رائے سے نہیں،اتفاق رائے سے ہوتی ہے، 26ویں آئینی ترمیم بھی اتفاق رائے سے منظور کرائی تھی، اور 18 ویں ترمیم بھی تمام جماعتوں نے اتفاق رائے سے منظورکرائی، 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو حقوق دیے گئے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں کیے وعدے پورے کررہے ہیں اور میثاق جمہوریت کے نامکمل وعدوں کی تکمیل یقینی بنارہے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے بھارت کو عبرتناک شکست دی، فیلڈمارشل کی کارکردگی کو پوری دنیا میں سراہا جارہا ہے، فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دے رہے ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ دہشت گردی ملک میں ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے، دہشتگردی اور ملک دشمنوں کے خلاف سب کو یکجا ہونا ہوگا، قوم فتنہ الخواج کے خلاف متحد ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتا ہوں، ہم نے پہلے بھی دہشت گردوں کا مل کر بھرپور مقابلہ کیا تھا، ہم نے شہادتیں دیکر دہشتگردوں کو پہلے بھی شکست دی اورآئندہ بھی دینگے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا صرف یہ کام نہیں کہ اپنے لیڈرکیلیے رونا دھونا رکھے، اپوزیشن کا کام ہے کہ وہ حکومت پر نظر رکھے، اپوزیشن کو قانون سازی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ، اور پی پی نے افتخار چوہدری کے سوموٹوز کو بھگتا، آج ہم ماضی کی غلطی کو درست کرنے جارہے ہیں، 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اب کوئی ازخود نوٹس نہیں ہوگا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری تجویزماننے پر ہم حکومت کے شکرگزار ہیں، 27ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کرنے والے بھی مانیں گے یہ بڑی کامیابی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ آئینی عدالت میں تمام صوبوں کی برابری کی بنیاد پر نمائندگی ہوگی۔