وفاق ہمیشہ کہتا ہے اس کے پاس وسائل نہیں ‘ اگر وفاق کنگال ہے تو بے اختیار وزارتیں بنانے کا کیا فائدہ ہے ‘ وزارتوں کو بااختیار بنایا جانا چاہیے ‘وہ ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہتے ہیں، گوادر اور کراچی کو بھی اسلام آباد سے چلانا چاہتے ہیں
اسلام آباد والے جو فیصلے کرتے ہیں آپ نے اس کا نقصان بھگتا ہے، گذشتہ الیکشن میں پیپلز پارٹی کی9نشستیں چوری ہوئیں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے الیکشن اسی وقت ہوں جب پاکستان میں جنرل الیکشن کرائے جائیں
گلگت بلتستان میں شفاف انتخابات کرائے جائیں‘فارم 45 کا بندوبست عوام کریں فارم 47 کا میں کرلوں گا‘کچھ سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی طرح بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتی ہیں، انکی سازشوں کو ناکام بنائیں گے:شگر میں جلسہ سے خطاب
شگر (آن لائن‘مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پیپلز پار ٹی بلاول بھٹو نے گلگت ،بلتستان اور آزادکشمیر کا الیکشن عام انتخابات کے ساتھ ہونے کا مطالبہ کرتے ہوے کہا ہے وفاق میں بیٹھے بابو کو ان علاقوں کے تمام فیصلے کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا ۔ وزارتیں بنائی ہیں تو انھیں بااختیار بھی ہونا چاہیے ۔ امید ہے جی بی میں پیپلز پارٹی کی سیٹ چوری نہیں ہوگی ۔پاکستان نے معرکہ حق میں شاندار فتح حاصل کی ۔ فیلڈ مارشل کی تما م محاذوں پر کامیابی کے لئے دعا گو ہیں ۔ ایران پر حملہ اور اعلی سول و عسکری قیادت کو شہید کرنا انتہائی قابل مذمت ہے ۔ خطے میں امن کیلئے کی جانے والی پاکستانی کوششوں کے بھرپور حامی ہیں ۔ حلقہ جی بی اے 12 شگر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوے بلاول بھٹو نے کہا آج بھی ہمار امطالبہ ہے کہ گلگت بلتستان میں صاف و شفاف الیکشن ہوں، آپ کو فارم 45 ہاتھ میں لے کر واپس جانا ہے، آپ نے میرا ساتھ دینا ہے، فارم 47 کا بندوبست میں خود کروں گا۔گذشتہ الیکشن میں ہماری 9نشستیں چوری ہوئیں‘یقین ہے ان الیکشن میں پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی نا انصافی نہیں ہوگی ۔ اور ہماری کوئی سیٹ چوری نہیں ہو گی انہوں نے کہا کچھ سیاسی جماعتیں سمجھتی ہیں شگر کے جو و سائل پر انکا حق ہے ۔ ایسی سیاسی جماعتیں وفاق سے شگر کے امور بھی چلانا چاہتی ہیں ۔ حا لا نکہ وفاق میں بیٹھے بابو کو پورے ملک کے تمام فیصلے کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ۔ اگر ایسا کرنا ہے گلگت ، آزاد کشمیر کی وزارتیں ختم کر دی جائیں ۔ وفاق ہمیشہ کہتا ہے کہ اس کے پاس وسائل نہیں ۔ اگر وفاق کنگال ہے تو بے اختیار وزارتیں بنانے کا کیا فائدہ ہے ۔ وزارتوں کو باختیار بنایا جانا چاہیے ۔وہ ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہتے ہیں، گوادر اور کراچی کو بھی اسلام آباد سے چلوانا چاہتے ہیں، اسلام آباد والے جو فیصلے کرتے ہیں آپ نے اس کا نقصان بھگتا ہے، میں چاہتا ہوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا فیصلہ اسلام آباد میں بیٹھا بابو نہیں،آپ کریں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا منشور ہے کہ گلت بلتستان کے عوام کو ان کا حق دلوانا ہے، ہمیں گلگت بلتستان کے عوام کو حق حاکمیت دلانا ہے، جب گلگت بلتستان اور پاکستان کا الیکشن ساتھ ہوگا تو پھر صحیح معنوں میں حقِ حاکمیت یقینی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے الیکشن اسی وقت ہوں جب پاکستان میں جنرل الیکشن ہوں‘بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا تحفظ صرف پیپلزپارٹی کرسکتی ہے، دیگر جماعتیں کسی نہ کسی طرح بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتی ہیں، اب ان کی نئی سوچ ہے کہ یہ پروگرام صوبوں کے حوالے کریں، دنیا بھر میں وفاقی حکومت یہ ذمہ داریاں اٹھاتی ہیں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو صوبوں کے حوالے کرنے کا مطلب پروگرام بند کرنا ہے۔