پاکستان میں سموگ کی شدت میں اضافہ، لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل

پاکستان میں سموگ کی شدت میں اضافہ، لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل

ویب ڈیسک:پاکستان میں سموگ کی لہر نے شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے مختلف شہر سموگ کی لپیٹ میں ہیں، بشمول ملتان، پشاور، اسلام آباد اور راولپنڈی۔ ملتان کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 597 پوائنٹس تک پہنچ گیا ہے اور شہر کا موسم خشک اور سرد رہنے کی توقع ہے۔

 لاہور میں سموگ کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے، اور یہاں کا ایئر کوالٹی انڈیکس 393 ریکارڈ کیا گیا۔ لاہور کے بعض علاقوں، جیسے ڈی ایچ اے، میں ایئر کوالٹی انڈیکس 896 تک پہنچ چکا ہے۔پشاور میں سموگ میں کمی آئی ہے اور ایئر کوالٹی انڈیکس 187 پر آ گیا ہے، جس کے بعد پشاور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں تیسرے سے چھٹے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ ہری پور میں ایئر کوالٹی انڈیکس 200 اور ایبٹ آباد میں 163 ریکارڈ کیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ 15 اور 16 نومبر کو پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش لائے گا، جس سے لاہور کی ایئر کوالٹی میں بہتری آ سکتی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق، سموگ کی شدت اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ خلاء سے بھی نظر آ رہی ہے، اور ناسا نے لاہور اور دہلی کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کی ہیں جن میں 10 نومبر کو دونوں شہروں پر سموگ کی سفید چادر واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔سموگ کے بڑھنے کی بڑی وجہ فصلوں کی باقیات کو جلانا ہے، جس سے اٹھنے والا دھواں سموگ کا سبب بنتا ہے۔ اس مسئلے کا فوری تدارک ضروری ہے۔ پنجاب حکومت گرین لاک ڈاؤن کے اقدامات کر رہی ہے، لیکن ان کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، جو اس وقت سوئٹزرلینڈ کے دورے پر ہیں، کو سموگ کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر عوام کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اس اہم وقت میں حکومت کے اہم رہنما باہر ہیں جب کہ پنجاب کے عوام سموگ سے متاثر ہو رہے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ سموگ کی روک تھام کے لیے وہی طریقہ کار اپنایا جائے جو سابق نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی کے دور میں کامیاب رہا تھا۔ اگر مصنوعی بارش کا انتظام کیا جائے تو سموگ کی شدت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔