لاہور اور پنجاب میں سموگ کی شدت، دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل

لاہور اور پنجاب میں سموگ کی شدت، دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل

پنجاب بدستور شدید سموگ کی لپیٹ میں ہے، اور لاہور ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔

 شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) خطرناک حدوں کو چھوتے ہوئے 379 تک جا پہنچا ہے۔تفصیلات کے مطابق، لاہور کے مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی کی سطح انتہائی تشویشناک ہے، جہاں لوئر مال میں AQI 743، گلبرگ میں 603، ایف ایف پاکستان کے اطراف 531، ڈائمنڈ پینٹ انڈسٹری کے قریب 513، یونیورسٹی آف لاہور (رائیونڈ روڈ) پر 511، علامہ اقبال ٹاؤن میں 489 اور ویلنشاء ٹاؤن و اس کے اطراف میں 455 ریکارڈ کیا گیا ہے۔پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی صورتحال تشویشناک ہے، جن میں گوجرانوالہ میں AQI 280، فیصل آباد 251، ملتان 210، سیالکوٹ 184 اور پشاور میں 196 شامل ہیں۔پنجاب حکومت اور محکمہ ماحولیات نے سموگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ مختلف فیکٹریاں سیل اور آلودگی پھیلانے والے صنعتی یونٹس کو منہدم کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق، 41 جدید ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سسٹمز فعال کر دیے گئے ہیں، اور ڈرون اسکواڈز تعینات کر کے سموگ فری زونز قائم کیے جا رہے ہیں۔

سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ “صاف فضا ہر شہری کا حق ہے، حکومت پائیدار اقدامات کے ذریعے سموگ کے مستقل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔”پی ڈی ایم اے کے ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کے مطابق، سموگ سے سانس کے امراض اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر بچے اور بوڑھے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سموگ کی روک تھام میں حکومت کا ساتھ دیں، اور احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے ماسک کا استعمال یقینی بنائیں۔

اداروں اور عوام کو مل کر سموگ کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ فصلوں کی باقیات، کوڑا کرکٹ، ٹائرز، پلاسٹک، پولی تھین بیگ، ربڑ اور چمڑا جلانے پر پابندی عائد کی گئی ہے، اور خلاف ورزی پر مقدمہ درج کیا جائے گا۔ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں اور انڈسٹریل یونٹس کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے۔ پی ڈی ایم اے انتظامیہ کو انسدادِ سموگ کے لیے آگاہی مہم چلانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔