پنجاب میں سموگ کی شدت، لاہور دنیا کے آلودہ شہروں میں دوسرے نمبر پر

پنجاب میں سموگ کی شدت، لاہور دنیا کے آلودہ شہروں میں دوسرے نمبر پر

پنجاب بھر میں سموگ کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے، جس کے نتیجے میں لاہور آج بھی دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ شہروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔

 شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 283 تک پہنچ چکا ہے، جو کہ خطرناک سطح قرار دی جاتی ہے۔ بھارت سے آنے والی ہوا کی وجہ سے لاہور میں فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے، اور شہر کا فضائی معیار مسلسل خراب ہوتا جا رہا ہے۔خصوصی رپورٹس کے مطابق، محکمہ جنگلات نے راوی روڈ پر آلودگی کی سطح 717 ریکارڈ کی ہے، جبکہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے اطراف AQI 555، علامہ اقبال ٹاؤن میں 445، اور ایف سی کالج کے نزدیک 393 تک پہنچ چکا ہے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق، اس اسموگ کی شدت سے شہریوں میں سانس، آنکھوں اور گلے کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جو صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف، بھارتی دارالحکومت دہلی بھی دنیا کے سب سے آلودہ شہروں میں سرفہرست ہے، جہاں کا ایئر کوالٹی انڈیکس 274 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ لاہور کا AQI 228 کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جس میں لوئر مال پر 441، بیدیاں روڈ پر 324، اور رائیونڈ روڈ پر 310 شامل ہیں۔ ملتان کی فضا سب سے زیادہ آلودہ رہی، جہاں AQI 443 کو چھو گیا، جبکہ سیالکوٹ میں 294، گوجرانوالہ میں 278 اور بہاولپور میں 217 ریکارڈ کیا گیا۔پنجاب حکومت سموگ سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ فوری اور موثر اقدامات کے بغیر اس صورتحال کا حل مشکل ہوگا، کیونکہ شہری صحت کو لاحق خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔