تحریر:فرزانہ اقبال
بدترین فضائی آلودگی کے باعث لاہوریوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لاہور کا اے کیو ا?ئی بدستور زیادہ رہا تو اوسطاً عمر 4 سال کم ہونے کے ساتھ اموات کا بھی خطرہ ہے۔ فضائی ا?لودگی کی وجہ سیپھیپھڑوں اور سانس کی بیماریاں پھیل رہی ہیںجبکہ سلفر اور کاربن کے باعث دل کی بیماریوں سمیت کینسر کی بیماری ہونے کا خطرہ ہے۔فضا میں زہریلے مادے، کیمیکلز و پارٹیکلز ہونے سے اسپتالوں میں ناک کان اور گلہ کے سینکڑوں مریضوں رپورٹ ہو رہے ہیں۔دل اور سانس کے مریضوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گھروں سے نہ نکلیں۔ پنجاب کے بیشتر علاقے شدید فضائی آلودگی کا شکار ہیں لاہور کی آلودگی تو اتنی بڑھ چکی ہے کہ خلا سے بھی اسموگ دکھائی دے رہی ہے۔لاہور میں اسموگ کی صورتحال اس قدر گھمبیر اور خطرناک ہوچکی ہے کہ یونیسیف بھی اس حوالے سے انتباہ جاری کر چکا ہے اوراسے لاکھوں بچوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔اسموگ نے پنجاب کی فضا کو اتنا زہریلا کر دیا ہے کہ معمولات زندگی درہم برہم ہوگئے ہیں اور حکومت ہنگامی اقدامات کرنے پر مجبور ہے۔اسموگ کی وجہ سے پنجاب حکومت اسمارٹ اور گرین لاک ڈاو?ن لگانے کے ساتھ اسکولوں کو بند، دفاتر میں ورک فرام ہوم، بازار، ہوٹلیں رات 8 اور شادی ہالز 10 بجے بند کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ جنریٹر اور آگ لگانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ حادثات کے بعد موٹر ویز بھی کئی مقامات پر بند کر دی گئی ہیں۔ماہرین نے اسموگ کی سب سے بڑی وجہ گاڑیوں سے نکلنے والے دھویں کو قرار دیا ہے جس کے بعد محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈماس ٹرانزٹ پنجاب نے عدالت کی روشنی میں نئی حکمت عملی تیار کرلی ہے، جس کے تحت دھواں چھوڑتی ایل ٹی وی گاڑیوں کوپہلی بار2 ہزار ،دوبارہ خلاف ورزی پر4ہزار جرمانہ ہوگا۔ہدایت نامے میں دھواں چھوڑتی بسوں وٹرکوں سمیت ہر طرح کی ایچ ٹی وی گاڑیوں سے نرمی نہ برتنے اور مکمل مرمت ہونے تک ایچ ٹی وی گاڑیاں بس وٹرک اسٹینڈز پر ہی تحویل میں رکھنے کی ہدایت کی ہے۔دھواں چھوڑتی گاڑیوں کے خلاف کارروائیوں پر روزانہ اورہفتہ واررپورٹ جمع کرانے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔اسموگ نے صوبائی دارالحکومت اور بڑے شہروں سے نکل کر دیگر اضلاع کو بھی آلودہ کرنا شروع کردیا ہے، جس کے سبب پنک آئی ، چیسٹ انفیکشن اور مختلف الرجی کے امراض کے متاثرین بڑھتے جا رہے ہیں۔ فضائی آلودگی کے بڑھنے کے پیش نظر ڈی جی خان ، ساہیوال ، سرگودھا،بہاولپور اور راولپنڈی ڈویڑن میں اسکولز بند کردیے گئے ہیں، جس کے بعد بارہویں جماعت تک تمام اسکولوں میں تدریسی عمل آن لائن ہوگا۔ اسکولوں کو 17 نومبر تک بند کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
اسموگ انسانوں، جانوروں، درختوں سمیت فطرت کے لیے نقصان دہ ہے اور جان لیوا امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، خصوصاً پھیپھڑوں یا گلے کے امراض سے موت کا خطرہ ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ شدید اسموگ سورج کی شعاعوں کی سطح کو نمایاں حد تک کم کردیتی ہے جس سے اہم قدرتی عناصر جیسے وٹامن ڈی کی کمی ہونے لگتی ہے جو امراض کا باعث بنتی ہے۔ کسی شہر یا قصبے کو اسموگ گھیر لیں تو اس کے اثرات
فوری طور پر محسوس ہوتے ہیں جو آنکھوں میں خارش، کھانسی، گلے یا سینے میں خراش اور جلد کے مسائل سے لے کر نمونیا، نزلہ زکام اور دیگر جان لیوا پھیپھڑوں کے امراض کا باعث بن سکتی ہے۔اسموگ کی معمولی مقدار میں گھومنا بھی دمہ کے مریضوں کے لیے دورے کا خطرہ بڑھانے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے، اس سے بوڑھے، بچے اور نظام تنفس کے مسائل کے شکار افراد بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
بدقسمتی سے پنجاب حکومت کے پاس اب تک کوئی ایسی مشین یا ٹیکنالوجی ہی موجود نہیں جس سے ایئر ٹیسٹ ممکن ہو اور اس کی درست وجہ تک پہنچا جاسکے۔ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے جس پر حکومتِ پنجاب کو توجہ دینی چاہیے تاکہ موحولیاتی مسائل پر کوئی پالیسی بنائی جائے اور ساتھ ہی ایسے آلات کا استعمال کیا جائے جو اس طرح کی تبدیلی کا جائزہ لے سکیں۔ جس طرح ترقی یافتہ ممالک میں اس طرح کی صورتحال میں اقدامات اٹھائے جاتے ہیں، اب ہمیں بھی اس بات کا خیال رکھنا ہوگا تاکہ لوگوں کو اس کے نقصانات سے بچایا جاسکے۔ ساتھ ہی عوام میں آگاہی بھی پیدا کرنی ہوگی کہ اس قسم کے حالات میں انہیں کون کون سی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔حکومت کے لیے ضروری ہے کہ 2017 میں جواسموگ کمیشن بنایا گیا تھا جس میں اینٹوں کے بھٹوں، فیکٹریوں اور گاڑیوں کے لیے 17 سفارشات دی گئیں تھیں ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائے تا کہ اسموگ کے خطرات سے مناسب حدتک بچا جا سکے۔ نومبر اور دسمبر کے مہینے میں فیکٹریوں کو پابند کیا جائے کہ وہ ان سفارشات پر عمل کریں۔ اینٹوں کے بھٹوں کو بھی دو ماہ کے لیے بندرکھا جانا چاہیے۔اسموگ کے خطرے سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں۔ زیادہ درخت لگانے سے فضا میں آلودگی کم ہو گی اور اسموگ میں بھی کمی ہوگی۔