مریم نواز اسموگ پر قابو پانے میں کوشاں

فرزانہ اقبال

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سموگ کے مسئلے کو سنجیدگی سے لے کر اس پر قابو پانے کے لیے اہم اقدامات کر رہی ہیں۔ ہر سال موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ پنجاب میں اسموگ کا مسئلہ شدت اختیار کر جاتا ہے جس سے نہ صرف صحت عامہ بلکہ اقتصادیات، ٹریفک اور روزمرہ کی زندگی پر بھی گہرا اثر پڑتا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اور عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ عوام کو اس جان لیوا آلودگی سے بچایا جا سکے۔اسموگ بنیادی طور پر فضا میں موجود آلودہ ذرات کا ایک مرکب ہوتا ہے، جس میں گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی فضلہ، اینٹوں کے بھٹوں کا دھواں، اور کھیتوں میں جلائے جانے والی فصل کی باقیات شامل ہوتی ہیں۔ پنجاب میں خاص طور پر لاہور اور ملتان جیسے بڑے شہروں میں اسموگ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پنجاب میں بڑھتی ہوئی شہری آبادی، صنعتوں کی زیادہ تعداد، اور غیر منصوبہ بند صنعتی ترقی نے اسموگ کے مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ، ہندوستان کی جانب سے فصلوں کی باقیات جلانے کا عمل بھی پاکستانی علاقوں میں اسموگ کی شدت بڑھاتا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں حکومت نے اسموگ کے مسئلے کو حل کرنے کے لییتمام متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر ایک جامع ایکشن پلان ترتیب دیا ہے جس کا مقصد نہ صرف فوری طور پر اسموگ کی شدت کو کم کرنا ہے بلکہ مستقبل میں بھی اس پر قابو پانا ہے۔پنجاب میں بڑی تعداد میں موجود فیکٹریاں اور صنعتیں اسموگ کے اہم اسباب میں سے ہیں۔مریم نواز نے صنعتی علاقوں میں فیکٹریوں اور اینٹوں کے بھٹوں کی نگرانی سخت کردی ہے۔ اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی اپنانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ کم دھواں پیدا ہو۔ وزیر اعلیٰ کے احکامات پر ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے صنعتی اداروں کے خلاف جرمانے اور قانونی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔پنجاب میں گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں اسموگ کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ٹریفک پولیس اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو گاڑیوں کی چیکنگ بڑھانے کا حکم دیا ہے تاکہ ایسی گاڑیوں کی نشاندہی کی جا سکے جو ا?لودگی کا باعث بنتی ہیں۔ گاڑیوں کی ایمیشن ٹیسٹنگ کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور فٹنس کے بغیر گاڑیوں پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔ عوام کو اپنی گاڑیوں کی بروقت سروس کروانے کی ترغیب دی جا رہی ہے اور بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کو فروغ دینے کے لیے مراعات دی جا رہی ہیں۔فصل کی باقیات کو جلانا اسموگ کے اہم اسباب میں سے ایک ہے۔ پنجاب میں کسان عام طور پر اپنی فصلوں کی باقیات کو آگ لگا دیتے ہیں، جس سے فضا میں آلودہ ذرات کا اخراج ہوتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس عمل کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں اور کسانوں کو متبادل طریقوں کے بارے میں آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔ زراعت کے شعبے میں حکومت نے کسانوں کو فصلوں کی باقیات کو ماحول دوست طریقوں سے ٹھکانے لگانے کے لیے مشینری اور تکنیکی مدد فراہم کرنے کا عہد کیا ہے۔عوامی ا?گاہی بھی اسموگ پر قابو پانے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے عوام کو اسموگ کے نقصانات اور اس سے بچائوکے طریقوں کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے مختلف پروگراموں اور آگاہی مہمات کا آغاز کیا ہے۔ ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، اور سوشل 
میڈیا کے ذریعے عوام کو بتایا جا رہا ہے کہ اسموگ کے دوران کون سی احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں، جیسے ماسک پہننا، زیادہ پانی پینا، اور غیر ضروری باہر نکلنے سے پرہیز کرنا۔اسموگ کے دوران سانس کی بیماریاں بڑھ جاتی ہیں، اور اس کا براہِ راست اثر ہسپتالوں کی ایمرجنسی پر پڑتا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ہسپتالوں میں اسموگ سے متاثرہ مریضوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں اور میڈیکل سٹاف کو بھی خصوصی تربیت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ اسموگ سے متاثرہ افراد کو بروقت اور موثر علاج فراہم کیا جا سکے۔جبکہ دوسری طرف لاہور میں اسموگ کی وجہ سے کئی علاقوں میں گرین لاک ڈائون لگا دیا گیا ہے۔تعمیراتی سرگرمیوں، موٹرسائیکل رکشوں پر پابندی عاید کر دی گئی ہے جبکہ کمرشل جنریٹرزچلانے سے بھی روک دیا گیا ہے۔گرین لاک ڈائون لگائے جانے والے علاقوں میں شادی ہال رات دس بجے تک کھلیں گے، بار بی کیو اور کھلے فوڈ پوائنٹس رات آٹھ بجے کے بعد بند ہوں گے، کوئلے اور لکڑیاں جلانے والے فوڈ پوائنٹس بھی بند ہوں گے۔ڈیوس روڈ، ایجرٹن روڈ، ڈیورنڈ روڈ، کشمیر روڈ اور ایبٹ روڈ پر گرین لاک ڈائون لگا دیا گیا ہے۔شملہ پہاڑی سے گلستان سنیما اور ریلوے ہیڈ کوارٹرز تک اور ایمپریس روڈ پر گرین لاک ڈائون لگایا گیا ہے۔ڈیورنڈ روڈ سے علامہ اقبال روڈ تک اور کوئین میری کالج روڈ کے اطراف بھی گرین لاک ڈائون لگادیا گیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب کا عزم ہے کہ وہ اسموگ کے مسئلے کو مکمل طور پر ختم کریں گی۔ اس کے لیے حکومت طویل المدتی منصوبے بھی بنا رہی ہے جن میں پبلک ٹرانسپورٹ کا فروغ، الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال، اور شجر کاری مہمات شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ان اقدامات سے امید ہے کہ آنے والے سالوں میں اسموگ کا مسئلہ کم ہو جائے گا اور پنجاب کے شہری صاف اور صحت مند ہوا میں سانس لے سکیں گے۔