عابد گوندل
پاکستان میں جون 2025 سے جاری مون سون بارشیں ایک بار پھر انسانی جانوں، املاک اور بنیادی ڈھانچے پر قہر بن کر نازل ہوئیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق 26 جون سے اب تک ملک بھر میں 245 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں جبکہ 602 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کسی ایک حادثے یا محدود علاقے کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی وہ اجتماعی تصویر پیش کر رہے ہیں جو ہر سال بارشوں کے موسم میں المیے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔بارش کسی بھی خطے کے لیے قدرت کا انمول تحفہ سمجھی جاتی ہے مگر جب وہ ناقص منصوبہ بندی، کمزور انفراسٹرکچر اور حکومتی نااہلی کے ساتھ مل جائے تو یہ رحمت زحمت بن جاتی ہے۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی
کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ جانی نقصان پنجاب میں ہوا جہاں 135 افراد جاں بحق اور 470 زخمی ہوئے۔ خیبر پختونخوا میں 59 افراد کی موت ہوئی اور 73 زخمی ہوئے جبکہ سندھ میں 24، بلوچستان میں 16، گلگت بلتستان میں 3، ا?زاد کشمیر میں 2 اور وفاقی دارالحکومت اسلام ا?باد میں 6 افراد جاں بحق ہوئے۔جاں بحق ہونے والوں میں 83 مرد، 44 خواتین اور 118 بچے شامل ہیں۔ اگر غور کریں تو بچوں کی تعداد دل دہلا دینے والی ہے۔۔زخمیوں میں 232 مرد، 168 خواتین اور 202 بچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 854 مکانات زمین بوس ہو چکے ہیں اور 208 مویشی ہلاک ہوئے ہیں جو دیہی معیشت کے لیے شدید دھچکا ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر اموات کی وجوہات میں مکانوں کا گرنا، ڈوبنے کے واقعات، لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈز شامل ہیں۔ ان اسباب کو دیکھ کر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے ان خطرات سے بچاو? کے لیے کوئی سنجیدہ حکمت عملی اختیار کی ہے؟ کیانیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ، صوبائی حکومتیں اور مقامی ادارے پیشگی اقدامات کرتے ہیں یا محض ردعمل کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں؟مکانات کا گرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے کئی علاقوں میں تعمیراتی معیار نہایت ناقص ہے۔ دوسری طرف نکاسی ا?ب کے نظام کی ناکامی اور شہری علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات بارشوں کے دوران جان لیوا ثابت ہو رہی ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بروقت رپورٹ جاری کر کے صورتحال کی سنگینی کو واضح ضرور کیا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی محض اعداد و شمار جاری کرنے کا ادارہ بن کر رہ گیا ہے؟ اس کا قیام 2007 میں اس لیے عمل میں لایا گیا تھا تاکہ قدرتی ا?فات سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر مربوط اور مو?ثر حکمت عملی وضع کی جائے مگر حالیہ واقعات اس بیانیے کی نفی کرتے ہیں۔صوبائی حکومتوں کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی۔ پنجاب جو سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا وہاں کے دیہی علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کی سست روی واضح ہے۔ خیبر پختونخوا میں پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات سے نمٹنے کے لیے پیشگی بندوبست نہ ہونے سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ سندھ اور بلوچستان میں بھی یہی صورتحال رہی۔ میڈیا پر اگرچہ اس صورتحال کی کچھ حد تک کوریج کی گئی مگر مجموعی طور پر میڈیا کی توجہ سیاسی بحران، عدالتی مقدمات اور قیادت کی باہمی چپقلش پر مرکوز رہی۔ دوسری جانب سوشل میڈیا نے کچھ متاثرہ علاقوں کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر کے عوامی رائے کو متحرک کیا مگر ریاستی مشینری اس سے بھی بے حس نظر ا?ئی۔یہ ایک افسوسناک پہلو ہے کہ قومی سطح پر انسانی جانوں کی اس تباہی کو اس اہمیت سے نہیں دیکھا جا رہا جو کسی سانحے کے بعد دی جانی چاہیے۔ یہ جانیں اگر کسی دہشت گردی کے حملے میں ضائع ہوتیں تو شاید قومی پرچم سرنگوں ہوتے مگر جب قدرتی ا?فات سے مرنے والوں کی بات ا?تی ہے تو ہمیں صرف نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اعداد و شمار پر اکتفا کرنا پڑتا ہے۔۔بارش ایک قدرتی حقیقت ہے اور یہ ا?ئندہ بھی ا?ئے گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس قدرتی نظام کے مطابق اپنی منصوبہ بندی کر رہے ہیں؟اس کے لئے حکومت کو ایک قومی مہم کے ذریعے ناقص مکانات کی از سرِ نو تعمیر اور مضبوطی کے لیے سبسڈی یا ا?سان قرضے دینے ہوں گے۔ محکمہ موسمیات اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر کے وقت پر وارننگ جاری کرنے کی صلاحیت بڑھانا ہو گی۔ضلعی سطح پر ریسکیو ٹیموں کی تربیت اور فوری رسپانس کا نظام بہتر بنانا ہو گا۔شہری علاقوں میں نکاسی ا?ب کی بہتری، نالوں کی صفائی اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مو?ثر کارروائی کرنا ہو گی۔ عوام میں قدرتی ا?فات سے نمٹنے کی ا?گاہی پیدا کرنے کے لیے اسکولوں، کالجوں اور کمیونٹی سینٹرز میں مہم چلانی پڑے گی۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو محض رپورٹنگ کا ادارہ بنانے کے بجائے اسے ایک ایگزیکٹو اتھارٹی کی شکل دینا ہو گی، جو ہنگامی صورتحال میں فیصلے کر سکے۔۔۔ہر بارش کے بعد جب کوئی گھر منہدم ہوتا ہے، جب کسی ماں کی گود خالی ہوتی ہے یا جب کسی مزدور کا خاندان ا?سمان تلے ا? جاتا ہے تو یہ محض قدرتی ا?فات کا نتیجہ نہیں بلکہ ہماری اجتماعی ریاستی نااہلی، غفلت اور ترجیحات کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔ہمیں بارشوں کے موسم کو ایک موسمی تبدیلی نہیں بلکہ ایک سماجی، اقتصادی اور انسانی چیلنج کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اب بھی نہ جاگے تو اگلی بارش کے ساتھ مزید اموات، مزید تباہی اور مزید المیے ہماے منتظر ہوں گے۔