ٹینکس سے مقاصد حاصل نہ ہوسکے ،ایکوافائر ریچارج کرنے کا عمل جاری :واسا
لاہور (خصوصی رپورٹ)لاہور میں بارشی پانی کو محفوظ بنا کر زیر زمین پانی کی سطح بہتر کرنے کا منصوبہ سوالیہ نشان بن گیا،کروڑوں روپے سے بننے والے انڈر گراو نڈ واٹر ٹینکس پانی ذخیرہ تو کر رہے ہیں مگر شہر کا ایکوافائر ریچارج نہ ہو سکا،منصوبے کے تحت ہر واٹر ٹینک کے ساتھ ڈرائی ویلز یا ریچارجنگ ویلز تعمیر ہونا تھے تاکہ جمع شدہ پانی زمین میں جذب ہو کر ایکوافائر کو ریچارج کر سکے، تاہم بیشتر مقامات پر یہ ویلز یا تو مکمل نہ ہو سکے یا تاحال فنکشنل نہ بنائے جا سکے۔قذافی سٹیڈیم میں قائم لاہور کے سب سے بڑے واٹر ٹینک کو فعال قرار دیا جا رہا ہے، مگر اس کے ساتھ تعمیر کیے جانے والے ریچارجنگ کنوئیں ابھی تک مکمل نہیں ہو سکے۔واسا انتظامیہ کا مو?قف ہے کہ نئے بننے والے واٹر ٹینکس کے ساتھ ڈرائی ویلز تعمیر کیے جا رہے ہیں اور ایکوافائر ریچارج کرنے کا عمل مرحلہ وار جاری ہے۔ زیر زمین پانی محفوظ بنانے کے لیے دیگر متبادل ذرائع پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔