وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی کو فیملی اور ذاتی ڈاکٹر کی موجودگی میں اسپتال منتقل نہیں کیا جا رہا، اور انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بانی کو منگل سے قبل اسپتال منتقل کیا جائے۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بعض لوگوں نے اخلاقی سطح سے نیچے جا کر بانی کی فیملی سے ملاقات نہیں کرائی اور پارلیمینٹرینز کو روکا گیا، جس سے عوام میں تشویش پھیل رہی ہے۔سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وہ بانی کی صحت کے معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور ان کے ساتھ ہر حد تک جانے کا عزم رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی کی فیملی اور ذاتی ڈاکٹر کی نگرانی میں علاج شروع کیا جانا چاہیے اور اس میں رکاوٹ ڈالنا انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگلے منگل کو سخت رویے کے ساتھ دوبارہ آئیں گے اور کوئی غیر آئینی مطالبہ نہیں بلکہ انسانی حق ہے کہ قیدی اپنے مرضی کے ڈاکٹر سے علاج کرائے۔ سہیل آفریدی نے یہ بھی واضح کیا کہ بانی کی صحت بہت حساس ہے اور اگر ان کی آنکھ کا سنگین مسئلہ ہے تو اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔