حکومتوں میں رہنے والوں کی جائیدادیں ضبط کر کے قرض اتارا جائے، محمود اچکزئی

حکومتوں میں رہنے والوں کی جائیدادیں ضبط کر کے قرض اتارا جائے، محمود اچکزئی

پشتون خوا ملی عوامی پارٹی (پشتون خوا میپ) کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان، افغانستان اور ایران سمیت پورے خطے کی موجودہ صورتِ حال اس خطے کے حکمرانوں کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ان حالات کا مقابلہ کس حکمتِ عملی سے کریں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی معاشی حالت نازک ہے اور تقریباً 10 سے 12 کروڑ عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

 قرض اتارنے کے لیے طاقتوروں کی جائیداد ضبط کرنے کی تجویز
انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک اہم تجویز یہ سامنے آئی ہے کہ جو افراد حکومتوں میں رہے اور ان کی جائیدادیں ان کے وسائل سے زیادہ ہیں، ان کی جائیدادیں ضبط کر کے آئی ایم ایف کے قرضے واپس کیے جائیں۔

 جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کو حکومت سے علیحدہ ہونا ہوگا
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جمہوریت پر یقین رکھنے والے افراد کو موجودہ حکومت سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھنا چاہیے، کیونکہ یہ حکومت عوامی مینڈیٹ کی نمائندہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت جمہوریت کے حامی افراد کو دبایا جا رہا ہے جبکہ وفاداریاں بیچنے والے فائدے میں ہیں۔

 ملکی اتحاد کی ضرورت، مگر حکومت رکاوٹ ہے
انہوں نے ایران کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ملی اتحاد وقت کی ضرورت ہے، لیکن یہ اتحاد تب تک ممکن نہیں جب تک موجودہ حکومت قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام خود اپنے ملک کو بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں، بشرطیکہ ہر صوبے کو اس کے وسائل پر حق دیا جائے۔

 آئین کی بالادستی پر زور
پشتون قوم پرست رہنما نے زور دیا کہ ملک میں آئین کی بالادستی ہونی چاہیے اور اگر کوئی آئین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے سزا ملنی چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ نواز شریف نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ دیا تھا، اور وہی اصول آج بھی زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔