حکومت کا گردشی قرض ختم کرنے کیلئے بینکوں سے 1275 ارب روپے قرض لینے کا انکشاف

حکومت کا گردشی قرض ختم کرنے کیلئے بینکوں سے 1275 ارب روپے قرض لینے کا انکشاف

اسلام آباد: ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا ہے کہ حکومت پاور سیکٹر کے گردشی قرض کو ختم کرنے کے لیے بینکوں سے 1,275 ارب روپے قرض لینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

یہ انکشاف کمیٹی کے اجلاس میں ہوا جس کی صدارت سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کی، جبکہ سینیٹر شبلی فراز سمیت دیگر ارکان بھی شریک ہوئے۔

ڈپٹی گورنر نے بتایا کہ مجوزہ قرض میں سے:

658 ارب روپے پاور سیکٹر کے قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوں گے
400 ارب روپے سکوک بانڈز کی صورت میں لیے جائیں گے
باقی رقم دیگر قرضوں کی ادائیگی کے لیے مختص ہو گی
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت مختلف ضروریات کے لیے مزید 670 ارب روپے کا قرض لینے کی تیاری کر رہی ہے اور اس سلسلے میں بینکوں سے مذاکرات حتمی مراحل میں ہیں۔

سینیٹر شبلی فراز نے سوال اٹھایا کہ قرض پر سود اب عوام کو ادا کرنا ہوگا؟ اور یہ قرض کتنے عرصے کے لیے لیا جائے گا؟اس پر سلیم مانڈوی والا نے تبصرہ کیا کہ حکومت صرف گردشی قرض کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہی ہے، حل نہیں کر رہی۔یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کا توانائی کا شعبہ مالی دباؤ کا شکار ہے اور گردشی قرض مسلسل بڑھ رہا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔