ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے ایران کے مختلف شہروں پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تبریز، شیراز اور حساس ترین مقام نطنز جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
خبر ایجنسیوں کے مطابق تبریز ایئرپورٹ پر اسرائیلی حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس کے مناظر ایرانی چینلز اور سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے ویڈیوز میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ویڈیوز میں حملوں کے مقامات سے دھواں اٹھتا اور خوف زدہ عوام کو محفوظ مقامات کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق نطنز میں موجود جوہری تنصیب پر حملہ خاص طور پر سٹریٹیجک اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ مقام ایران کے ایٹمی پروگرام کا مرکزی نکتہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر اس تنصیب کو نقصان پہنچا ہے تو اس کے خطے پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ایرانی میڈیا کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ آج ہونے والے اسرائیلی حملوں میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ اور 6 ایٹمی سائنسدان شہید ہو چکے ہیں۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق 7 افراد شہید اور 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ایران کی حکومت کی جانب سے فی الحال ان حملوں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ایرانی عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی شروع ہو چکے ہیں۔عالمی مبصرین کے مطابق یہ حملے مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ کے آغاز کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں، جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت، سلامتی اور سفارتی ماحول پر مرتب ہوں گے۔