یمن میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جب حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے یمن کے مغربی ساحلی شہر الحدیدہ پر چھ فضائی حملے کیے۔
حوثی میڈیا "المسیرہ" کے مطابق، یہ حملے باجل ضلع اور صنعاء ایئرپورٹ روڈ سمیت مختلف علاقوں میں کیے گئے، جن میں 16 افراد زخمی ہوئے ہیں۔حوثیوں کے سرکاری خبررساں ادارے "سبا" نے بھی ان حملوں کی تصدیق کی، جبکہ صنعاء پر مزید تین اور شمالی یمن کے صوبے الجوف پر سات فضائی حملے رپورٹ کیے گئے ہیں۔یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب حوثیوں نے اتوار کے روز دعویٰ کیا کہ انہوں نے اسرائیل کے بین گوریون انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہائپر سونک بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں چھ افراد زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ پہلا موقع ہے جب کوئی میزائل بین گوریون ایئرپورٹ کے اندر گرا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے حوثی باغیوں اور ان کے مبینہ سرپرست ایران کو سخت جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکومت نے اسرائیل پر حملے میں کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حوثیوں کا خودمختار فیصلہ تھا جو انہوں نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر کیا۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی سرزمین کو نشانہ بنایا گیا تو وہ پوری قوت سے جواب دے گا۔صورتحال اس وقت سنگین رخ اختیار کر رہی ہے کیونکہ یہ تنازع صرف یمن اور اسرائیل کے درمیان محدود نہیں رہا بلکہ امریکا، ایران اور خطے کے دیگر ممالک بھی اس میں بالواسطہ طور پر شامل ہو رہے ہیں۔ اس نئی پیش رفت نے مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔