ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں شدت آ گئی ہے۔ ایران نے اسرائیل پر حملوں کی چودہویں لہر کے دوران ایک بار پھر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا ہے، جس میں اسرائیلی فوج کے اہم کمانڈ اور انٹیلی جنس ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی حملے کی تفصیلات:
ایران نے اپنی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کی بوچھاڑ کرتے ہوئے تل ابیب سمیت کئی اسرائیلی شہروں میں حساس فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔خاص طور پر صیہونی فوج کے یونٹ 8200 (جسے اسرائیل کا الیکٹرانک انٹیلیجنس یونٹ تصور کیا جاتا ہے) کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔میزائل حملوں سے اسرائیلی فوجی مواصلاتی نظام اور خفیہ مراکز کو اہم دھچکا لگا ہے۔
ایران کی وارننگ:
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے عالمی برادری کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ:"اگر کوئی تیسرا فریق اس تنازعے میں شامل ہوا، تو ایران فیصلہ کن فوجی کارروائی کرے گا۔"کونسل نے مزید کہا کہ:ایران کا ردعمل فوری، متناسب اور پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت ہوگا۔ایران اپنی خودمختاری کا بھرپور دفاع کرے گا، خاص طور پر ان مربوط مغربی قوتوں کے خلاف جو اسرائیل کے جارحانہ اقدامات میں شریک ہیں، بالخصوص امریکا۔
اسپتال حملے پر ایران کا ردعمل:
اسرائیلی میڈیا کی جانب سے ایران پر اسپتال کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ایران نے اس دعوے کو "جھوٹ کا پلندہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض پروپیگنڈہ ہے، تاکہ عالمی رائے عامہ کو گمراہ کیا جا سکے۔
علاقائی تناؤ میں اضافہ:
یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطے میں:
غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں میں شدت
شام و لبنان میں اسرائیلی حملے
ایران کی نیوکلئیر اور دفاعی تنصیبات پر دباؤ
جیسے عوامل پہلے ہی غیریقینی صورتحال پیدا کر چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے:
ایران کا یہ حملہ انتہائی مربوط اور سٹریٹیجک نوعیت کا تھا۔یہ اسرائیل کو فوجی، خفیہ اور نفسیاتی محاذ پر دباؤ میں لانے کی ایک براہِ راست کوشش ہے۔اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو خطے میں کھلی جنگ کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔