ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر اسرائیل کے تازہ حملے؛ 60 طیارے شریک

ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر اسرائیل کے تازہ حملے؛ 60 طیارے شریک

 اسرائیل کے حملے — تفصیل
وقت: بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات (تقریباً 18 جون 2025 کی شب)
نشانہ: تہران سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں تقریباً 20 ایرانی نیوکلیئر اور فوجی اہداف
طیاروں کی تعداد: تقریباً 60 لڑاکا طیارے 
 ہدف بنائے گئے مقامات:
یورینیم افزودگی کے مراکز:

ناتنز (Natanz) فیول افزودگی پلانٹ پر بجلی کا انفراسٹرکچر تباہ، کئی سینٹریفیوجز خراب
فوردو (Fordow) گہرا زیرِ زمین، کم نقصان کے باوجود قدرے فعال
اصفہان (Isfahan) نیوکلیئر ٹیکنالوجی سنٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا
سینٹریفیوجز اور R&D سائٹس:

تہران اور کرج میں سینٹریفیوج پروڈکشن اور جوہری تحقیق کی لیبز تباہ
ایران کے R&D منصوبوں پر کام کرنے والی سائٹس کو نشانہ بنایا گیا تاکہ افزودگی کی رفتار اور گنجائش کم ہو جائے
دفاعی اور میزائل تنصیبات:

راکٹ اور میزائل اسمبلی پلانٹس، فضائی دفاعی ڈھانچے نشانہ 
خلائی جہاز جیسے KC-707 ری فیولر طیارہ اور AH-1 Cobra ہیلی کاپٹر تباہ 
خام مادہ اور صنعتی پلانٹس:

خونداب (Khondab) بھاری پانی پلانٹ کے قریب حملہ
زنجان میں میٹل سے متعلق فیکٹریاں جو سینٹریفیوج روٹرز وغیرہ کے لیے استعمال ہو سکتی تھیں
  اثرات و تجزیہ
جوہری پروگرام کو نقصان:
ناتنز اور اصفہان کی سطح پر کافی نقصان ہونے کے باوجود زیرِ زمین فروڈو تقریباً محفوظ رہا، اور ایران کے پاس اب بھی ہتھیار ساز افزودہ یورینیم موجود ہے — تقریباً 60% افزودگی سطح پرکافی مقدار
سائنسدانوں اور حکمتیاروں کی ہلاکتیں:
ابتدائی اطلاعات کے مطابق نحوستاً 14 نیوکلیئر سائنسدان مارے گئے، جبکہ اعلیٰ افسران بھی ہدف بنے
عالمی نگرانی کی کمی:
IAEA نے متاثرہ سائٹس کا دورہ نہیں کیا؛ وہ صرف سیٹلائٹ تصاویر پر انحصار کر رہا ہے 
  ردعمل اور علاقائی کشیدگی
ایران کی جانب سے حملہ آور:
ایران نے جوابی ردعمل میں سینتروں میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے، خاص کر اسرائیل کے جنوبی اور مرکزی علاقوں میں 
ریاستِ متحدہ کی پوزیشن:
امریکہ نے براہِ راست حملوں میں حصہ نہیں لیا، مگر میزائلوں کے خلاف دفاع میں تعاون کیا، اور علاقے میں اضافی فوجی وسائل فائز کیے
بین الاقوامی ردعمل:
روس نے ثالثی کی پیشکش دی مگر اسرائیل نے انکار کیا 
عالمی سطح پر غیر مستحکم عوامل کے باعث غیر اعلانیہ الجھن پھیل رہی ہے۔

خلاصہ
اسرائیل نے بدھ-جمعرات کی درمیانی شب تہران اور دیگر اہم علاقوں میں تقریباً 20 نیوکلیئر اور فوجی اہداف پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ ان کا مقصد ایران کی افزودگی کی صلاحیت کم کرنا تھا، اور حملے کے دوران سینٹریفیوجز، تحقیقاتی سائٹس، میزائل تنصیبات اور دفاعاتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ ناتنز اور اصفہان کی سرفیس انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ نیچے دفن فوردو تقریباً محفوظ رہا۔ ایران نے شدید retaliatory میزائل و ڈرون حملے کیے، اور امریکہ نے میزائل ڈیکٹیو کے لیے تعاون فراہم کیا۔