فلپائن میں ایک انوکھا اور متنازعہ معالج روزالیو، جسے مقامی طور پر "Datu Kamandag" یعنی "زہر کا سربراہ" کہا جاتا ہے، ان دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔
اس کی شہرت کی وجہ اس کا حیران کن طریقہ علاج ہے: وہ زہریلے سانپ سے کٹوا کر مریضوں کا علاج کرتا ہے۔روزالیو کا تعلق فلپائن کے شمالی علاقے میں آباد مانوبو قبیلے سے ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ سانپ کے زہر میں شفا بخش طاقتیں ہیں، اور وہ خود اس کا زندہ ثبوت ہے۔ کئی سال پہلے اس کا کہنا ہے کہ جب وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا تھا تو اس کے اپنے پالتو زہریلے وائپر نے اسے کاٹ لیا۔ چند ہی دنوں میں اس کی طبیعت بہتر ہونے لگی، اور وہ سمجھا کہ زہر ہی اس کی صحتیابی کی وجہ ہے۔تب سے روزالیو نے خود کو ایک "زہریلے معالج" کے طور پر منوا لیا ہے۔ وہ مقامی سانپوں، خصوصاً پٹ وائپرز کا استعمال مختلف جسمانی و ذہنی بیماریوں کے علاج کے لیے کرتا ہے۔ مقامی افراد میں کچھ لوگ اسے مسیحا سمجھتے ہیں، تو کچھ ماہرین اور طبی حلقے اس کے طریقہ علاج کو خطرناک اور غیر سائنسی قرار دیتے ہیں۔
روزالیو کا طریقہ علاج نہ صرف متنازعہ ہے بلکہ اس پر مقامی و بین الاقوامی صحت حکام کی بھی نظر ہے، جو ایسے "علاج" کے ممکنہ خطرات اور زہریلے اثرات سے خبردار کر رہے ہیں۔ تاہم، روزالیو کی شہرت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، اور دور دراز علاقوں سے لوگ اس کی خدمات لینے پہنچ رہے ہیں۔یہ کیس ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ متبادل اور دیسی علاج کس حد تک مقبول ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اُن علاقوں میں جہاں جدید طبی سہولیات محدود ہیں۔