فلپائن نے چین پر الزامات عائد کیے ہیں کہ اس نے جنوبی بحیرۂ چین کے ایک متنازع علاقے میں زہریلا کیمیکل استعمال کیا ہے، جس سے سمندری حیات اور ماہی گیری کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق، فلپائنی حکام کا کہنا ہے کہ بحریہ نے گزشتہ سال ایک زیرِ آب چٹان کے قریب چینی کشتیوں سے بوتلیں ضبط کی تھیں جن میں زہریلے مادوں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ علاقہ اسپریٹلی جزائر میں واقع ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان جاری تنازع کا مرکز ہے۔ قومی سلامتی کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ زہر کا استعمال تخریبی کارروائی ہے، جس کا مقصد مقامی مچھلیوں کو ختم کرنا اور فلپائنی اہلکاروں کو خوراک سے محروم کرنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس سے مونگے کی چٹان کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے، جس پر فلپائن کا ایک جنگی جہاز کھڑا ہے۔
دوسری جانب، چین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ فلپائن نے چینی ماہی گیروں کو ہراساں کیا اور ان کا سامان ضبط کیا ہے۔ یاد رہے کہ جنوبی بحیرۂ چین میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ چین اس سمندر کے تقریباً پورے علاقے پر اپنا دعویٰ کرتا ہے، جسے عالمی سطح پر متنازع قرار دیا جا چکا ہے۔