عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ذیلی ادارے نے غزہ میں جاری تشویشناک حالات کے پیش نظر اہم اعلان کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے اس ادارے نے کہا ہے کہ اسرائیل کے حالیہ حملوں اور جنگ کی وجہ سے غزہ میں تقریباً 15 ہزار فلسطینی مریضوں کو بیرون ملک علاج کے لیے فوری طور پر نکالنے کی ضرورت ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈھنم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (پہلے ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں بتایا کہ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود غزہ کی راہداری بند پڑی ہے، جس کے باعث ہنگامی بنیادوں پر ان مریضوں کو باہر نکالنے کا عمل روک دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج انہوں نے 41 مریضوں کو جان بچانے کے لیے غزہ سے نکال لیا ہے، لیکن حالات اب بھی بہت نازک ہیں۔انہوں نے بتایا کہ غزہ میں جنگ کے نتیجے میں اسپتال اور صحت کے مراکز مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے یہاں کے علاج معالجے کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔
اس تباہی کے سبب، تقریباً 15 ہزار مریضوں کو ہنگامی بنیادوں پر بیرون ملک منتقل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی جانیں بچائی جا سکیں۔اس اعلان سے واضح ہوتا ہے کہ غزہ کے موجودہ حالات ایک بڑے انسانی بحران کی طرف جا رہے ہیں، جہاں صحت کے شعبے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور مریضوں کے لیے علاج معالجہ کا سلسلہ جاری رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔ عالمی برادری اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی گئی ہے کہ فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ ان مریضوں کو زندگیاں بچانے کے لیے مدد فراہم کی جا سکے۔