پنجاب میں ای ٹیکسی منصوبے کا بزنس و فنانشل ماڈل تیار

لاہور (کرائم رپورٹر)وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر صوبے میں ای ٹیکسی منصوبہ ترجیحی بنیادوں پر شروع کیا جا رہا ہے۔محکمہ ٹرانسپورٹ نے منصوبے کا بزنس اور فنانشل ماڈل تیار کر لیا جسکے تحت پائلٹ  پراجیکٹ کے طور پر لاہور میں 1100 ای ٹیکسیز فراہم کی جائینگی۔نیسپاک کے تیار کردہ بزنس پلان کے مطابق یہ ای ٹیکسیز فلیٹ آنرز، انفرادی افراد اور رائیڈ شیئرنگ کمپنیوں کو دی جائینگی۔منصوبے کے تحت 1000 گاڑیاں فلیٹ آنرز کو جبکہ 100 گاڑیاں انفرادی سطح پر دی جائینگی۔فلیٹ آنرز کم از کم 10گاڑیاں لینے کے پابند ہونگے۔انفرادی سطح پر بھی مرد و خواتین کیلئے علیحدہ کوٹے مختص کیے گئے ہیں۔خواتین کیلئے 30 ای ٹیکسیز مختص کی گئی ہیں۔حکومت پنجاب مارک اپ، ٹوکن ٹیکس اور رجسٹریشن فیس خود ادا کرے گی، گاڑی کی قیمت کا 40 فیصد فلیٹ آنرز بطور ڈاو ن پیمنٹ جمع کرائینگے، باقی رقم پنجاب بینک دے گا۔انفرادی سطح پر مردوں کیلئے 30 فیصد اور خواتین کیلئے 40 فیصد ڈاو ن پیمنٹ رکھی گئی ہے۔درخواستیں پی آئی ٹی بی کے پورٹل پر جمع ہونگی جبکہ فراہمی ای بلیٹنگ کے ذریعے ہو گی۔ای ٹیکسی سپلائرز اہم مقامات پر چارجنگ پوائنٹس قائم کرنے کے پابند ہونگے، 25 گاڑیوں کیلئے ایک چارجنگ سٹیشن لازمی ہوگا۔ ای ٹیکسیز ایک چارج میں کم از کم 300 کلومیٹرچلیں گی۔ منتخب سپلائرز سروس سینٹرز اور سپیئر پارٹس کی دستیابی کو بھی یقینی بنائینگے ،ای ٹیکسی منصوبہ ناصرف روزگار کے مواقع پیدا کرے گا بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی کیلئے بھی مو ثر ثابت ہوگا۔