رکنِ پنجاب اسمبلی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما حنا پرویز بٹ نے معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اور فیملی وی لاگر رجب بٹ کے بعد اب ان کی والدہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
یہ ردعمل ایک ایسے ویڈیو کلپ پر سامنے آیا جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔رجب بٹ پاکستان کے مقبول ترین یوٹیوبرز میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے یوٹیوب چینل پر تقریباً 90 لاکھ سبسکرائبرز جبکہ انسٹاگرام پر 29 لاکھ سے زائد فالوورز موجود ہیں، جہاں وہ اپنی روزمرہ زندگی اور خاندانی سرگرمیوں پر مبنی وی لاگز شیئر کرتے ہیں۔حنا پرویز بٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر رجب بٹ کے ایک وی لاگ کا مختصر کلپ ری شیئر کیا۔ ویڈیو میں رجب بٹ کی والدہ ایک پرینک کے دوران بے ہوش ہونے کی اداکاری کرتی نظر آتی ہیں، جس سے گھر کے دیگر افراد پریشان ہو جاتے ہیں۔ بعد ازاں وہ ہنستے ہوئے اٹھتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ یہ سب پہلے سے طے شدہ مذاق تھا۔اس ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے حنا پرویز بٹ نے لکھا کہ ایسے ڈرامائی مناظر ہی ان لوگوں کی آمدنی کا ذریعہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کم عمر بچے بھی اس قسم کا مواد دیکھ کر متاثر ہو رہے ہیں اور اس خاندان نے معاشرے میں کبھی کوئی مثبت کردار ادا نہیں کیا۔
حنا پرویز بٹ کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی۔ بعض صارفین نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایسے مواد کی حوصلہ شکنی کی جائے، جبکہ کچھ نے کہا کہ اگر لوگ ایسے وی لاگز دیکھنا بند کر دیں تو ان کی مقبولیت خود بخود کم ہو جائے گی۔ دوسری جانب متعدد صارفین نے حنا پرویز بٹ کی تنقید کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ناظرین اپنی پسند کا مواد خود منتخب کرنے میں آزاد ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں کہ حنا پرویز بٹ نے رجب بٹ یا دیگر فیملی وی لاگرز پر تنقید کی ہو۔ اس سے قبل بھی وہ متعدد مواقع پر رجب بٹ سمیت معروف انفلوئنسرز کے مواد پر اعتراض اٹھا چکی ہیں اور والدین کو مشورہ دے چکی ہیں کہ وہ بچوں کو ایسے کانٹینٹ سے دور رکھیں کیونکہ اس سے ان کی تربیت اور سماجی اقدار متاثر ہو سکتی ہیں۔