ویب ڈیسک: وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان پر کڑی نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ جیل کی دیواریں ان کو ذہنی طور پر مفلوج کر چکی ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان نے بطورِ حاکم "جلاد اور فرعون" کے رول ایک ساتھ ادا کیے، جبکہ اب وہ ماضی میں جن مذہبی جماعتوں کو شدت پسند یا دہشت گرد قرار دیتے تھے، اُنھی کے لیے اپنے کارکنوں کو احتجاج کی کال دے رہے ہیں۔وزیرِ اطلاعات نے مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے بار بار موقف بدلنے (یوٹرن لینے) پر انہیں شرم نہیں آنی چاہیے۔ ان کے الفاظ میں، "جب آپ کی فائنل کال کو پاکستان نے ریجیکٹ کر دیا ہے تو اب کس منہ سے کال دیتے ہیں؟" انہوں نے استفسار کیا کہ کیا انتشار پھیلانے کے لیے ان دونوں (اشارہ طور پر کسی رہنما یا جماعت کی طرف) کا ایجنڈا ایک ہی ہے؟
عظمیٰ بخاری نے خیبرپختونخوا میں حکمرانی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جہاں تحریکِ انصاف کی حکومت ہے وہاں دہشت گردی عروج پر ہے۔ ان کے بقول، "خیبرپختونخوا اس وقت بے ضابطہ حکمرانی، کرپشن اور دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے۔"وزیرِ اطلاعات کا مؤقف تھا کہ مذکورہ جماعت کے پاس "پالیسی ڈلیور" کرنے کے بجائے حکومتیں بدلنے اور انتشار پھیلانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔