گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے اچانک سیلابی ریلوں نے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں رابطہ سڑکیں بند، رہائشی آبادیاں محصور اور معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق تھور، داریل، بونر داس اور نیاٹ سمیت مختلف علاقوں میں فلش فلڈ کے باعث بنیادی ڈھانچے، زرعی اراضی، مکانات، فصلوں، درختوں اور بھاری مشینری کو شدید نقصان پہنچا۔تھور کے علاقے ٹھوسرکا میں سیلابی ریلوں نے رہائشی آبادی کو دونوں اطراف سے گھیر لیا، جس کے باعث مکین پوری رات اپنے گھروں میں محصور رہے۔ کئی گھروں میں ملبہ داخل ہو گیا جبکہ زرعی زمینیں، کھڑی فصلیں اور درخت بھی سیلابی ریلوں کی نذر ہو گئے۔شدید بارشوں کے باعث تھور کی مرکزی رابطہ سڑک متعدد مقامات پر بند ہو گئی، جس سے ٹریفک معطل ہو گئی، جبکہ بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔دوسری جانب داریل کے کھنبری شنگ شر نالہ میں آنے والے فلش فلڈ نے دو رہائشی مکانات، متعدد مویشیوں اور حسنات کمپنی کی بھاری مشینری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اطلاعات کے مطابق سیلابی ریلے میں 13 ڈمپر، ایک ایکسویٹر، ایک کریش پلانٹ اور دو واٹر ٹینکر بہہ گئے، جبکہ زرعی زمینوں، فصلوں، درختوں اور رابطہ سڑکوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
بونر داس میں سیلاب کے باعث شاہراہِ قراقرم ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو گئی، جس کے باعث مسافر اور مال بردار گاڑیوں کے ساتھ سیاح بھی مختلف مقامات پر پھنس گئے۔ادھر نیاٹ میں بھی شدید طغیانی کے باعث رابطہ سڑک کئی مقامات پر متاثر ہوئی، آمدورفت معطل ہو گئی اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔متاثرہ علاقوں میں بجلی کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے اور متعدد مقامات پر رات گئے سے بجلی کی فراہمی معطل ہے۔مقامی متاثرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی سرگرمیاں شروع کی جائیں، بجلی کی فراہمی بحال کی جائے اور بند سڑکوں کو ہنگامی بنیادوں پر بحال کیا جائے تاکہ متاثرہ آبادی کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔