غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت 6 فلسطینی جاں بحق

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت 6 فلسطینی جاں بحق

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ تھم نہ سکا۔

فلسطینی طبی حکام کے مطابق تازہ حملوں میں کم از کم 6 فلسطینی جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔طبی ذرائع کے مطابق وسطی غزہ کے البریج پناہ گزین کیمپ کے مشرقی علاقے میں بے گھر خاندانوں کے خیموں پر مبینہ اسرائیلی فائرنگ کے نتیجے میں 9 سالہ طلہ ابو مطر جاں بحق ہو گئیں۔ اسرائیلی فوج نے اس واقعے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے اس حملے کی فوری معلومات موصول نہیں ہوئیں۔دوسری جانب غزہ سٹی کے صبرہ علاقے میں واقع ایک دھات سازی کی ورکشاپ پر اسرائیلی فضائی حملہ کیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملے میں تین میزائل داغے گئے، جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد جان کی بازی ہار گئے۔اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی شواہد یا مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔جنوبی غزہ کے علاقے المواصی، خان یونس میں بے گھر افراد کے خیموں پر بھی ایک اور حملہ کیا گیا، جس میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔ اس حملے پر اسرائیلی فوج نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب حماس کا ایک وفد مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے سے متعلق مذاکرات میں شریک ہے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات میں حماس کو غیر مسلح کرنے، اسرائیلی فوج کے انخلا اور امریکی امن منصوبے پر عمل درآمد سمیت مختلف امور پر بات چیت جاری ہے، تاہم تاحال کسی بڑی پیش رفت کی اطلاع نہیں ملی۔فلسطینی حکام کے مطابق اکتوبر 2025 میں جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود غزہ میں وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔ ان کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک ایک ہزار سے زائد فلسطینی مختلف حملوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ اسی عرصے کے دوران چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت بھی رپورٹ کی گئی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری تشدد اور جنگ بندی مذاکرات میں تعطل خطے میں پائیدار امن کے قیام کی راہ میں بدستور ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔