بلوچستان کے سرکاری ملازمین کے اتحاد گرینڈ الائنس نے مطالبات تسلیم نہ کیے جانے پر احتجاجی تحریک کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں خضدار، قلعہ سیف اللہ، پنجگور، ڈیرہ مراد جمالی، نوشکی اور لسبیلہ میں سرکاری ملازمین نے علامتی طور پر دو گھنٹے کے لیے قومی شاہراہیں بند رکھیں، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر رہی۔گرینڈ الائنس کے مطابق احتجاجی تحریک مرحلہ وار جاری رہے گی۔ اعلان کے تحت 13 جنوری کو قلات، پشین، لورالائی، دالبندین، تربت اور پسنی جبکہ 14 جنوری کو ڈیرہ اللہ یار، حب، خاران، ژوب، گوادر، چمن اور رکنی میں بھی قومی شاہراہوں کی علامتی بندش کی جائے گی۔الائنس نے واضح کیا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو 15 جنوری کو صوبے بھر میں مکمل لاک ڈاؤن کیا جائے گا، جس کے دوران تمام سرکاری ادارے بند رہیں گے۔بلوچستان گرینڈ الائنس کے مطابق 20 جنوری کو صوبے بھر سے سرکاری ملازمین کوئٹہ میں ریڈ زون کے باہر غیر معینہ مدت کے لیے احتجاجی دھرنا دیں گے، جو مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔
گرینڈ الائنس کے بنیادی مطالبات میں وفاقی طرز پر فوری طور پر 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کی فراہمی، سرکاری محکموں کی نجکاری کے خاتمے، پینشن اصلاحات پر عملدرآمد روکنے، کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتیوں کے اختتام اور دیگر انتظامی امور شامل ہیں۔احتجاج کے باعث مختلف علاقوں میں شہریوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ گرینڈ الائنس نے خبردار کیا ہے کہ مطالبات پر سنجیدہ پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔