صوبائی دارالحکومت لاہور میں اغوا کار گروہ، سی سی ڈی نکیل نہ ڈال سکی

یکم جنوری سے 31 دسمبر 2025 تک اغوا برائے تاوان کی مجموعی طور پر 3719 وارداتیں، صدر ڈویڑن 4 کیسز کے ساتھ سرفہرست رہا
لاہور(کرائم رپورٹر)صوبائی دارالحکومت لاہور میں اغوا کاروں کے گروہوں کی سرگرمیاں تشویشناک حد تک بڑھ گئیں جبکہ سی سی ڈی اور انویسٹی گیشن پولیس ان گروہوں کو قابو میں لانے میں ناکام اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں یکم جنوری 2025 سے 31 دسمبر 2025 تک اغوا اور اغوا برائے تاوان کی مجموعی طور پر 3719 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ ان میں سے 14 وارداتیں اغوا برائے تاوان کی تھیں، جبکہ باقی 3705 وارداتیں خواتین، مردوں، بچوں اور بچیوں کے اغوا سے متعلق ہیں۔اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں صدر ڈویڑن 4 کیسز کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ کینٹ ڈویڑن اور اقبال ٹاؤن ڈویڑن میں 3،3 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ ماڈل ٹاؤن ڈویڑن میں 2 جبکہ سٹی ڈویڑن اور سول لائن ڈویڑن میں ایک، ایک واردات سامنے آئی۔عام اغوا کی وارداتوں کے حوالے سے کینٹ ڈویڑن 1041 کیسز کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، صدر ڈویڑن میں 730 وارداتیں رپورٹ ہوئیں جو دوسرے نمبر پر ہے۔ ماڈل ٹاؤن ڈویڑن 684 وارداتوں کے ساتھ تیسرے، سٹی ڈویڑن 575 کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہا۔اسی طرح اقبال ٹاؤن ڈویڑن میں 394 اور سول لائن ڈویڑن میں 281 اغوا کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں، جو بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر ہیں