پرچم اتارنے پر برطانوی سفیر کی ایرانی وزارت خارجہ میں طلبی جنگ اور مذاکرات دونوں کیلئے تیار ہیں:وزیر خارجہ

ایران  میںامریکہ اور صیہونی حکومت کیخلاف مزاحمت میں شہید ہونیوالوں کی یاد میں 3 روزہ سوگ ‘ عوام فسادیوں اوردہشت گردوں سے خود کو دور رکھیں:ایرانی صدر
 ٹرمپ کی دھمکیوں نے مظاہروں میں تشدد کو ہوا دی‘داعش اور دیگر دہشت گرد عناصر نے سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کیا، بعض کے گلے کاٹ دیئے ‘کچھ کو زندہ جلا دیا:وزیرخارجہ عباس عراقچی
فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے ساتھ جو ہوا وہی ٹرمپ کے ساتھ ہوگا، ٹرمپ کو یہ سمجھنا چاہیے  اقتدار کے عروج پر طاقتور ترین حکمرانوں کے ساتھ کیا ہوا:   آیت اللہ خامنہ ای
تہران،ایتھنز،لاس اینجلس(آئی این پی )ایران نے امریکہ اور صیہونی حکومت کے خلاف مزاحمت میں شہید ہونے والوں کی یاد میں 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ ایران میں بگڑتی ہوئی داخلی صورتحال کے خلاف دنیا بھر میں ایرانی باشندوں کا احتجاج  شروع ہوگیا۔ ایرانی میڈیا سے گفتگو میں صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھاکہ امریکا اور اسرائیل ایران میں افراتفری اور بیامنی پھیلانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا  امریکہ اور اسرائیل اپنے مذموم مقاصد کیلئے ایران میں فسادات کرا رہے ہیں، ایرانی عوام فسادیوں اوردہشت گردوں سے خودد کو دور رکھیں۔ایرانی صدر کا کہنا تھاکہ عوام فسادیوں کو انتشار پھیلانیکی اجازت نہ دیں، ایرانی عوام کو یقین رکھنا چاہیے  ہم انصاف قائم کرنا چاہتے ہیں۔  ادھر  لندن میں ایرانی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی ریلی اور اسلامی جمہوریہ کا جھنڈا اتارے جانے کے بعد تہران میں برطانوی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا  ۔ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے برطانوی حکومت پر الزام لگایا  وہ ملک کے سفارتی مقامات کے تحفظ میں ناکام رہی ہے اور مظاہروں کے بارے میں مداخلت پسند بیانات دے رہی ہے‘ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے  ہم جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہیں، غیر ملکی عناصر کی مداخلت سے بھڑکائے گئے حالات پر قابو پالیا ہے۔تہران میں غیر ملکی سفارتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جاری احتجاج  ابتدا میں پرامن تھے اور حکومت نے مظاہرین کے جائز مطالبات سن کر اقتصادی اصلاحات بھی شروع کیں، مظاہرے دسمبر کے آخر تک کم زور تھے لیکن جنوری کے آغاز میں احتجاج نے ایک نیا روپ اختیار کیا اور نئے افراد اور دہشت گرد عناصر کی مداخلت سے یہ مظاہرے پرتشدد اور خونریز بن گئے۔عراقچی نے کہا کہ بعض مظاہرین کو ہتھیار دیے گئے اور انہوں نے نہ صرف سکیورٹی اہلکاروں بلکہ عام شہریوں پر بھی فائرنگ کی، جس کا مقصد جانی نقصان بڑھا کر امریکا کو مداخلت کا بہانہ فراہم کرنا تھا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں نے مظاہروں میں تشدد کو ہوا دی اور بعض عناصر کو اس پر اکسانے کا سبب بنی۔ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق داعش اور دیگر دہشت گرد عناصر نے سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کیا، بعض کے گلے کاٹ دیے اور کچھ کو زندہ جلا دیا،ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے ساتھ جو ہوا وہی ٹرمپ کے ساتھ ہو گا۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ غرور میں ڈوبا ایک شخص پوری دنیا کے فیصلے کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ اقتدار کے عروج پر طاقتور ترین حکمرانوں کے ساتھ کیا ہوا۔ایران کے سپریم لیڈر کا کہنا تھاکہ فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے ساتھ جو ہوا وہی ٹرمپ کے ساتھ ہو گا۔