بھارت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں‘پاک بھارت کشیدگی میں کمی کیلئے برطانیہ کے کردار کو سراہتے ہیں، تجارتی مذاکرات دونوں کیلئے فائدہ مند ثابت ہوں گے:وزیراعظم

خسارے میں جانیوالے اداروں کی نجکاری ناگزیر تمام فیصلوں کی خود نگرانی کروں گا:شہبازشریف

 نجکاری کے تمام مراحل شفافیت، پیشہ وارانہ مہارت اور بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل کئے  جائیں‘ غیر ضروری تاخیر، سرخ فیتے اور رکاوٹیں ختم کر کے نجکاری کمیشن کو مکمل قانونی خود مختاری دی جائے گی :اجلاس میں ہدایات
 پروازوں کی بحالی کے  فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں‘ اس مثبت پیش رفت سے برطانوی پاکستانی کمیونٹی کو درپیش مشکلات کو دور کرنے کیساتھ لوگوں کے درمیان تبادلے کو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی: برطانوی ہائی کمشنر  سے ملاقات میں گفتگو
 ٹیکس نظام کی بہتری سے ملکی آمدن میں اضافہ اور عام آدمی پر ٹیکس بوجھ کم کرنا ترجیحات ہیں،ایف بی آر کی اصلاحات سے ٹیکس نظام کی بہتری خوش آئند ہے:ایف بی آرمیں جاری  اصلاحات پر جائزہ اجلاس  میں اظہار خیال 

اسلام آباد(آئی این پی‘آن لائن  )وزیراعظم محمد شہبازشریف  نے کہا ہے  پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل پر بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے، پاکستان اور برطانیہ کے   درمیان حالیہ تجارتی مذاکرات دونوں فریقین کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند ثابت ہوں گے۔وزیر اعظم  سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے بدھ کے روز ملاقات کی اور پاک برطانیہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کنگ چارلس سوئم اور وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس سال کے اواخر میں برطانیہ کی قیادت کے ساتھ اپنی ملاقات کے منتظر ہیں۔انہوں نے برطانوی حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی پروازوں کی بحالی کے حالیہ فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس مثبت پیش رفت سے برطانوی پاکستانی کمیونٹی کو درپیش مشکلات کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے درمیان تبادلے کو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے اس سلسلے میں ہائی کمشنر کے مثبت کردار کو خاص طور پر سراہا۔وزیراعظم نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تعاون کی مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان حال ہی میں ہونے والے تجارتی مذاکرات دونوں فریقین کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند ثابت ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی برطانیہ کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے، جس کی اس وقت پاکستان کے پاس صدارت ہے۔ملاقات میں جنوبی ایشیا اور مشرق وسطی کی علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے پاک بھارت کشیدگی میں کمی کے لیے برطانیہ کے کردار کو سراہتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل پر بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔برطانوی ہائی کمشنر نے وزیراعظم کو اپنے حالیہ دورہ لندن کے بارے میں بتایا جہاں انہوں نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کو بڑھانے کے حوالے سے وسیع مشاورت کی‘دریں اثناء  وزیراعظم شہبازشریف نے واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا  ہے  نجکاری کے تمام مراحل شفافیت، پیشہ ورانہ مہارت اور بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں۔ غیر ضروری تاخیر، سرخ فیتے اور رکاوٹیں ختم کر کے نجکاری کمیشن کو مکمل قانونی خود مختاری دی جائے گی تاکہ عمل تیزی اور مؤثریت سے مکمل ہو۔  وزیراعظم کی زیر صدارت ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری سے متعلق پیش رفت کا تفصیلی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خسارے میں چلنے والے  قومی اداروں کی مرحلہ وار نجکاری حکومت کی اولین ترجیح ہے، تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم اور فعال بنایا جا سکے۔تمام فیصلوں کی خود نگرانی کروں گا‘علاوہ ازیں شہباز شریف نے کہا ہے  ٹیکس نظام کی بہتری سے ملکی آمدن میں اضافہ اور عام آدمی پر ٹیکس بوجھ کم کرنا ترجیحات ہیں، ایف بی آر کی اصلاحات سے ٹیکس نظام کی بہتری خوش آئند ہے، عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نظام کی تشکیل کیلئے معینہ مدت میں اقدامات یقینی بنائے جائیں، اہداف کا حصول مثبت ہے مگر مزید محنت کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار وزیراعظم   نے  فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کی جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس  کی صدارت کرتے ہوئے کیا ، اجلاس کو ایف بی آر کی اصلاحات، اقدامات کے نتائج اور گزشتہ مالی سال کے اہداف پر بریفنگ دی گئی۔   وزیرِ اعظم نے  اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے ایف بی آر حکام اور اصلاحات کے عمل میں شامل افسران و اہلکاروں کی کوششوں کی تعریف کی اور آئندہ ہفتے تجاویز کے حوالے سے قابل عمل اہداف اور مدت کا تعین کر کے پیش کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے ڈیجیٹائزیشن سے اہداف کے حصول میں معاونت ملی، اسے مستقل بنیادوں پر پائیدار نظام بنانے کیلئے اقدامات یقینی بنائے جائیں، غیر رسمی معیشت کے سدباب کیلئے انفورسمنٹ کے حوالے سے مزید اقدامات کئے جائیں، ایف بی آر کے ڈیجیٹل ونگ کی ازسر نو تشکیل کیلئے جامع لائحہ عمل تشکیل دے کر اہداف کے حصول کے وقت کا تعین کیا جائے