آج مذاکرات کے لیے اسپیکر کی منتیں کی جا رہی ہیں: گورنر فیصل کریم کنڈی

آج مذاکرات کے لیے اسپیکر کی منتیں کی جا رہی ہیں: گورنر فیصل کریم کنڈی

گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے حوالے سے کہا کہ انہیں این آر او نہیں ملے گا اور ان کی رہائی کا فیصلہ عدالتوں پر چھوڑ دیا جائے گا۔

 انہوں نے پشاور پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صرف سنجیدہ افراد سے مذاکرات کر رہی ہے، اور مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ مذاکرات پر یقین رکھتی ہے اور آج کی سیاسی صورتحال میں، جو لوگ مذاکرات کے مخالف تھے، وہ اب خود مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں۔فیصل کریم کنڈی نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپور پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر کرنے میں صوبائی حکومت ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور اپنے اپنے ضلع میں بھی امن قائم نہیں کر سکے، اور صوبے میں کرپشن کا بازار گرم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا جو بات کرتے ہیں، وہ بعد میں پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماؤں کے ہاتھوں کر لی جاتی ہے۔

گورنر نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی سہولت کار ہے اور وہ ملک میں انتشار چاہتے ہیں، اسی وجہ سے وہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں نہیں آئے۔ فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں جاری حالات کا ذکر کرتے ہوئے کرم کی صورتِ حال کو نازک قرار دیا اور کہا کہ صوبائی حکومت اس بارے میں کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔ انہوں نے وفاق اور فوج سے کرم کے معاملے پر فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ وفاق سے پانچ ارب روپے کی رقم آئی لیکن اس کا کوئی حساب نہیں ہے کہ پولیس کو اس سے کیا فائدہ ہوا۔ گورنر ہاؤس میں بلدیاتی نمائندوں کے اجلاس بلانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت چاہے تو وہ بین الاقوامی اداروں سے مدد لے کر صوبے میں مختلف پروگرام شروع کرنے کی تجویز دے سکتے ہیں۔

آخر میں، فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں صحت کی سہولتوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں صحت کارڈ کے ذریعے لوگوں کو 50 لاکھ روپے تک کی مدد ملتی ہے، جبکہ خیبر پختون خوا میں اس کی مقدار صرف 10 لاکھ روپے تک محدود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایپکس کمیٹی میں صوبے کی نمائندگی کرنے والوں پر انہیں اعتماد نہیں ہے، کیونکہ ان کے خلاف خود مقدمات درج ہیں۔