بزدار دور میںسرکاری سکولز فنڈغیر قانونی طور پر خرچ کیے جانے کاانکشاف

2020-21میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی ڈی جی خان نے فرنیچرو دیگر اشیاء کی خریداری کے لیے 99ملین خرچ کیے جن کی تصدیق نہ ہوسکی
 ڈی جی خان میں سرکاری سکولوں میں سرکاری رقم خرچ کرنے کی با ضابطہ منظور ی ہی نہیں لی گئی،آڈٹ رپورٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کردی گئی 
لاہور(آئی این پی)سابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے اپنے ہی ضلع ڈیرہ غازی خان میں بڑی مالی بے ضابطگی سامنے آگئی، جس کی رپورٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کردی گئی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق مالی بے ضابطگی کی آڈٹ رپورٹ پنجاب اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کو بھجوا دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عثمان بزدارکے دور اقتدار میں ضلع ڈی جی خان میں سرکاری سکولوں میں سرکاری فنڈز غیر قانونی طور پر خرچ کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق عثمان بزدار کی وزارت اعلیٰ میں ڈی جی خان میں سرکاری سکولوں کے میں سرکاری رقم خرچ کرنے کی با ضابطہ منظور ی ہی نہیں لی گئی، ڈی جی خان کے سرکاری سکولوں میں رقم کی محکمانہ طور پر معائنہ کرنے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔2020-21میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی ڈی جی خان نے فرنیچر اور دیگر اشیاء کی خریداری کے لیے 99 ملین روپے خرچ کیے تھے، تاہم فرنیچر اور دیگر اشیا کی ضرورت کی کسی بھی سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی۔آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کی مالی بے ضابطگی کی نشان دہی پر ڈسٹرکٹ اتھارٹی ڈی جی خان کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔