پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 21 معاہدوں پر دستخط، تجارتی اور دفاعی تعاون میں وسعت

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 21 معاہدوں پر دستخط، تجارتی اور دفاعی تعاون میں وسعت

اسلام آباد میں منعقدہ ایک اہم تقریب میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 21 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے، جن کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تجارت، دفاع اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، دونوں ممالک کے وزرائے تجارت اور اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ معاہدوں پر دستخط کے بعد دستاویزات کا تبادلہ بھی کیا گیا۔

پاک-ترکیہ تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات مزید مضبوط
تقریب سے قبل پاکستان کے وزیر تجارت جام کمال خان اور ترک وزیر تجارت عمر بولات کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات ہوئی، جس میں تجارتی اور سرمایہ کاری تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ "پاکستان، ترکیہ کا دوسرا گھر ہے۔"
ترک وزیر تجارت عمر بولات نے کہا کہ "صدر اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف کے قریبی تعلقات نے دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دیا ہے۔"
اہم فیصلے اور معاہدے:
✅ ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) کو مؤثر بنانے پر غور
✅ ڈی-8 ترجیحی تجارتی معاہدے کی بحالی اور استحکام پر تبادلہ خیال
✅ ترکیہ کی کمپنیاں پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کے لیے تیار
✅ پاکستانی مصنوعات کی ترکیہ میں نمائش کے لیے "میڈ ان پاکستان" ایکسپو کی تجویز
✅ ترکیہ، پاکستانی باسمتی چاول کی برآمدات بڑھانے کے لیے اقدامات کرے گا
✅ پاکستان نے ترکیہ کو اپریل میں ہونے والی ہیلتھ کیئر اینڈ انڈسٹریل ایکسپو میں شرکت کی دعوت دی

دفاعی تعاون میں بھی اضافہ
دونوں ممالک نے دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے، مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا ہے۔یہ معاہدے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوستی، تجارتی شراکت داری اور دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔