ویب ڈیسک: وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ بیلاروس کے دوران پاکستان اور بیلاروس کے درمیان مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا گیا، جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، تجارتی، صنعتی، زرعی اور ماحولیاتی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
طے پانے والے اہم معاہدے:
بیلاروس فنڈ برائے مالی تعاون برائے کاروبار اور پاکستان کی سمیڈا (SMEDA) کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط۔
وزارتِ داخلہ پاکستان اور بیلاروس کی داخلی امور کی وزارت کے درمیان سیکیورٹی تعاون کا معاہدہ۔
پاکستان اور بیلاروس کی وزارتِ دفاع کے مابین فوجی تعاون کا معاہدہ، جس کے تحت 2025ء تا 2027ء کا دفاعی روڈ میپ بھی پیش کیا گیا۔
بیلاروس کی فوجی صنعت کی اسٹیٹ اتھارٹی اور وزارتِ دفاعی پیداوار پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پایا۔
ماحولیاتی تحفظ سے متعلق مفاہمتی یادداشت اور اس پر عمل درآمد کے لیے روڈ میپ کی منظوری۔
بیلاروس کے ایوانِ صنعت و تجارت اور پاکستان کی ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (TDAP) کے درمیان تجارتی تعاون کا معاہدہ۔
اعلیٰ سطحی بیانات:
بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے کہا کہ:
"بیلاروس، پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ ان تعلقات کو نئی جہت دے گا۔"
انہوں نے پاکستان-بیلاروس بزنس فورم کو تجارتی فروغ کا اہم ذریعہ قرار دیا اور زور دیا کہ دونوں ملک دو طرفہ تجارت اور معاشی شراکت داری سے مکمل فائدہ اٹھائیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا ردِعمل:
وزیراعظم شہباز شریف نے بیلاروس کے ساتھ مضبوط تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
"ہماری بات چیت نتیجہ خیز رہی۔ مختلف شعبوں میں باہمی مفاہمت کی بنیاد پر تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔"
انہوں نے بیلاروس کی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور کہا:
"پاکستان میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع اور سازگار ماحول موجود ہے، خاص طور پر زراعت اور صنعت میں۔"
وزیراعظم نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بیلاروس میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اس ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔