صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ قطر، تجارتی اور دفاعی معاہدوں پر دستخط

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ قطر، تجارتی اور دفاعی معاہدوں پر دستخط

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے تاریخی دورۂ سعودی عرب کے بعد قطر پہنچ گئے، جہاں انہوں نے تجارتی اور دفاعی تعاون پر مبنی اہم معاہدوں پر دستخط کیے۔

 یہ دورہ امریکا اور قطر کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

دوحہ ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال
صدر ٹرمپ بدھ کے روز قطر پہنچے، جہاں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے ان کا استقبال کیا۔ دوحہ ایئرپورٹ پر ان کے اعزاز میں خصوصی پروٹوکول دیا گیا، جس کے بعد شاہی محل آمد پر روایتی تلواروں کا رقص بھی پیش کیا گیا، جو قطری ثقافت کا ایک خاص حصہ ہے۔

اہم امور پر بند کمرہ ملاقات
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شاہی محل میں صدر ٹرمپ اور امیر قطر کے درمیان ایک بند کمرہ ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں غزہ کی صورتحال، روس-یوکرین جنگ، ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے باہمی تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔

ایران سے متعلق اہم بیان
ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے لوسیل محل میں منعقدہ ایک عشائیے میں شرکت کی، جس کی میزبانی امیر قطر نے کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا:

"ایران کے ساتھ ممکنہ ڈیل کے لیے قطر، امریکا کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے۔ ہم ایران کو ترقی کرتے اور مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں، نہ کہ تنہائی کا شکار۔"
قطری امیر کا ردعمل
دوسری جانب امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ:"صدر ٹرمپ کا دورہ قطر، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا۔ ہم خطے میں امن، ترقی اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعاون جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔"
اہم معاہدے طے پا گئے
دورے کے دوران امریکا اور قطر کے درمیان تجارتی، سرمایہ کاری اور دفاعی شعبوں میں متعدد معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ ان معاہدوں سے نہ صرف دوطرفہ تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ خطے میں سلامتی کے حوالے سے مشترکہ اقدامات میں بھی بہتری آئے گی۔