چین نے پاکستان کے استحکام اور ترقی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
یہ اعلان صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں کیا گیا۔
اعلامیے کے اہم نکات
افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت اور مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔دونوں ملکوں نے دفاعی و سیکیورٹی تعاون بڑھانے اور تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا فیصلہ کیا۔
صدر آصف زرداری کی دیگر ملاقاتیں
صدر آصف علی زرداری نے چینی وزیرِ اعظم لی چیانگ سے بھی ملاقات کی، جس میں چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے دوسرے مرحلے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اہم معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں
دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے کئی معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں شامل ہیں:
✅ سیمنٹ کی پیداوار میں یومیہ 5 ہزار ٹن اضافے کے لیے نئی پروڈکشن لائن لگانے کا معاہدہ۔
✅ قابلِ تجدید توانائی کے مختلف منصوبوں میں تعاون پر اتفاق۔
✅ حکومتِ سندھ اور چینی کمپنی کے درمیان کوئلے کی گیس یوریا پلانٹ کے قیام کی یادداشت۔
یہ معاہدے پاکستان میں صنعتی ترقی، توانائی کے شعبے میں استحکام، اور معاشی بہتری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔