ویب ڈیسک:پاکستان اور بیلاروس کے درمیان اہم مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر تبادلہ ہوا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اہم قدم ہیں۔
ان معاہدوں میں 2025ء سے 2027ء تک کا روڈ میپ شامل ہے، جس پر مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں، جبکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک معاہدہ بھی کیا گیا۔مزید برآں، آڈیٹر جنرل آفس اور بیلاروس کی اسٹیٹ کنٹرول کمیٹی کے درمیان تعاون، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ جیسے جرائم کو روکنے کے لیے بھی یادداشتوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ پاکستان نیشنل ایکریڈیشن کونسل اور بیلاروس کے ایکریڈیشن سینٹر کے درمیان بھی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان ماحولیاتی تحفظ، بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ، اور نیو ٹیک اور بیلاروس کے فنی تعلیم کے انسٹی ٹیوٹ کے درمیان تعاون کے معاہدے بھی طے پائے ہیں۔ مزید برآں، مطلوب ملزمان کی حوالگی، ڈریپ اور بیلاروس کی وزارت صحت کے درمیان تعاون، اور حلال اشیاء کی تجارت کے حوالے سے بھی معاہدے ہوئے ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے صدر لوکاشینکو اور ان کے وفد کو پاکستان میں خوش آمدید کہا اور کہا کہ 8 سال کے وقفے کے بعد صدر لوکاشینکو کا پاکستان کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے سے پاکستان اور بیلاروس کے تعلقات کو نیا عروج ملے گا۔وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ بیلاروس کے ساتھ معاہدوں کو فوری طور پر عملی جامہ پہنایا جائے گا، اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔ وزیرِ اعظم نے فلسطین کی موجودہ صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں 45 ہزار بے گناہ افراد شہید ہو چکے ہیں، اور انہوں نے فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
یہ معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کریں گی اور دونوں ملکوں کے عوام کے مفاد میں ہوں گی۔