امریکا کی 20 ریاستوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے H-1B ویزا پر 100,000 ڈالر فیس عائد کرنے کے فیصلے کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
امریکی ریاستوں کا مؤقف ہے کہ یہ پالیسی غیر قانونی ہے اور تعلیمی، صحت، اور دیگر ضروری عوامی خدمات کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔H-1B پروگرام ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے لیے اہم ہے اور امریکی اسپتالوں، جامعات اور سرکاری اسکولوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت اساتذہ اور طبی عملہ بڑی تعداد میں امریکا میں کام کر رہا ہے۔ریاستوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کو اتنی بھاری فیس عائد کرنے کا اختیار نہیں اور یہ فیصلہ آئینی اور انتظامی حدود کی خلاف ورزی ہے۔
نئی پالیسی 21 ستمبر 2025ء کے بعد دائر کی گئی درخواستوں پر لاگو ہوگی، جبکہ بعض درخواستوں کو سیکریٹری ہوم لینڈ سیکیورٹی فیس سے مستثنیٰ بھی قرار دے سکتے ہیں۔اس فیس کے اضافے سے امریکا کو 2036ء تک تقریباً 86,000 ڈاکٹروں کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس مقدمے کی قیادت کیلیفورنیا اور میساچوسٹس نے کی ہے، جس میں دیگر 18 ریاستیں شامل ہیں۔H-1B ویزا پروگرام ٹیکنالوجی، صحت اور تعلیمی تحقیق کے شعبوں میں غیر ملکی ماہرین کے لیے امریکا میں اہم راستہ ہے۔