ٹرمپ اور ایران کے ممکنہ معاہدے کے اشارے، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے نیچے آ گئی

ٹرمپ اور ایران کے ممکنہ معاہدے کے اشارے، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے نیچے آ گئی

عالمی منڈی میں امریکا اور ایران کے ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس سے سرمایہ کاروں میں بھی مثبت رجحان پیدا ہوا ہے۔ 
برطانوی خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں تقریباً 7 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، اور اس کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئی ہے۔ اسی طرح، امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں بھی 8 فیصد کمی دیکھی گئی ہے، اور یہ 92 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کمی امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، دونوں ممالک جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اگلے 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے معاہدے کے نکات پر باضابطہ ردعمل کی توقع ہے۔ مجوزہ معاہدے میں، ایران یورینیم افزودگی محدود کرنے پر آمادگی ظاہر کر سکتا ہے، جبکہ امریکا کی طرف سے ایران پر عائد بعض پابندیوں کو نرم کرنے اور منجمد ایرانی فنڈز جاری کرنے کی بات بھی ہو سکتی ہے۔ 
مزید برآں، ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر عائد پابندیوں کے خاتمے کی تجویز شامل ہے، جس سے عالمی تیل سپلائی میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے “پروجیکٹ فریڈم” کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا تھا، جس کے باوجود تیل کی قیمتوں میں کمی آئی تھی، لیکن آج امریکا اور ایران کے ممکنہ معاہدے کی خبروں نے عالمی توانائی مارکیٹ کو مزید مثبت اثرات سے نوازا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو نہ صرف عالمی تیل مارکیٹ میں استحکام آئے گا بلکہ خطے میں کشیدگی کم ہونے سے عالمی معیشت پر بھی خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔