سابق آڈیٹر جنرل بلند اختر رانا کو ماہانہ پنشن رواں ماہ کے آخر میں ادا کرنے کا حکم ‘بتایا جائے کتنے پیسے باقی بنتے ہیں اور کب دیں گے ؟ جب دل کرتا ہے عدالتی آرڈر مان لیتے ہیں، جب دل کرتا ہے آرڈر نہیں مانتے، کسی کو خیال نہیں آیا:ریمارکس‘سماعت12جنوری تک ملتوی
اسلام آباد(آن لائن ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق آڈیٹر جنرل بلند اختر رانا کو ماہانہ پینشن رواں ماہ کے آخر میں ادا کرکے جنوری میںتحریری رپورٹ مانگ لی ہے جس میں کہاگیاہے بتایاجائے کتنے پیسے باقی بنتے ہیں اور کب دیں گے؟ عدالت نے ایک بار پھرپیسوں کی ادائیگی کے لیے ہدایات جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 12 جنوری تک ملتوی کردی۔جبکہ جسٹس محسن اختر کیانی نے عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ساری بیوروکریسی اور ایگزیکٹیو مل کر عدلیہ سے مذاق کر رہے ہیں۔ جب دل کرتا ہے عدالتی آرڈر مان لیتے ہیں، جب دل کرتا ہے آرڈر نہیں مانتے، کسی کو خیال نہیں آیا کہ جس نے سابق چیف جسٹس کے ساتھ زیادتی کی اس کو کیوں ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔انٹرا کورٹ اپیل زیر سماعت ہے تو ہمارا حکم معطل کروالیں ورنہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کریں، اس ماہ کے آخر میں درخواست گزار کی ماہانہ پینشن کی ادائیگی یقینی بنائیں ورنہ معذرت کے ساتھ توہین عدالت ہوگی۔انھوں نے یہ ریمارکس جمعہ کے روزدیے ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق آڈیٹر جنرل پاکستان بلند اختر رانا کو عدالتی حکم کے باوجود پینشن کی عدم ادائیگی پر سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی، عدالتی حکم پر عمل درآمد کی بجائے انٹرا کورٹ اپیل زیر سماعت ہونے کے باعث وقت مانگنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ انٹرا کورٹ اپیل زیر سماعت ہے تو ہمارا حکم معطل کروالیں ورنہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کریں، اس ماہ کے آخر میں درخواست گزار کی ماہانہ پینشن کی ادائیگی یقینی بنائیں ورنہ معذرت کے ساتھ توہین عدالت ہوگی‘جسٹس محسن اختر نے مزید کہا کہ اگر عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہوا تو اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو اور آڈیٹر جنرل کے اکاؤنٹ منجمد ہونگے،