کمیٹی ہی اسمبلی کی طاقت ہے‘دنیا میں لوگ ایگزیکٹیو کو بوجھ سمجھتے ہیں ملک احمد خان

پارلیمان وہ جگہ ہے جس سے لوگوں کو امید ہوتی ہے اور جہاں جمہوریت ہوتی ہے: کونسل آف چیئرپرسنز کے اجلاس میں گفتگو

لاہور(سپشل رپورٹر) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی میں کونسل آف چیئرپرسنز کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں ترامیم، اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے زیر التواء￿  امور اور ان کے اجلاسوں کے شیڈول پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس کے دوران سپیکر ملک محمد احمد خان نے کمیٹیوں کے کردار اور ان کی فعالیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا  جہاں بھی پارلیمانی حکومت ہے، وہاں کمیٹیوں کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے۔ کمیٹی کی طاقت ہی اسمبلی کی طاقت ہے۔ دنیا میں لوگ ایگزیکٹیو کو بوجھ سمجھتے ہیں اور پارلیمان کی جانب دیکھتے ہیں۔پارلیمان وہ جگہ ہے جس سے لوگوں کو امید ہوتی ہے اور جہاں جمہوریت ہوتی ہے۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے اس موقع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قوانین کی موجودگی کے باوجود یہ اجلاس اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ منعقد ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کمیٹیوں کو صرف ریفر کردہ معاملات پر کام کرنے کا اختیار حاصل تھا، مگر اب کمیٹیاں تمام رولز کا ازسرِ نو جائزہ لے سکتی ہیں۔بطور چیئرمینزآپ کے پاس اپنے کام کرنے کے قوانین طے کرنے کی طاقت موجود ہے۔سپیکر ملک محمد احمد خان نے چیئرمینز کے لیے دفاتر مختص کرنے کی تجویز بھی دی اور بتایا کہ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ کو سمری ارسال کی جا چکی ہے۔اجلاس کے دوران سپیکر پنجاب اسمبلی نے بتایا کہ پہلے پنجاب اسمبلی میں 37 اسٹینڈنگ کمیٹیاں تھیں، جن کی تعداد اب بڑھ کر 48 ہو چکی ہے۔ جو محکمے اسمبلی کے پاس موجود ہیں، ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا موازنہ پچھلی 17 اسمبلیوں سے نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس دور میں اسمبلی کمیٹیاں زیادہ فعال اور بااختیار ہیں