عدلیہ‘ پارلیمنٹ‘ ایگزیکٹو زوال پذیر ہیں جسٹس محسن اختر کیانی بیان پارلیمنٹ پر حملہ‘ قابل قبول نہیں سپیکر قومی اسمبلی

اب امیدیں صرف نوجوان نسل سے ہیں‘  پاکستان میں رہنا مستقل لڑائی ہے، 25 کروڑ لوگ ہیں، لڑائی کرنے والے زیادہ ہیں :کیس کی سماعت کے  دوران ریمارکس
وزیر قانون جج کو پیغام دیں پارلیمنٹ کیخلاف بیان قابل قبول نہیں ، اس طرح سسٹم نہیں چلتا، کسی کو بھی پارلیمنٹ کے خلاف بیان دینے کا حق نہیں : ایاز صادق 

 اسلام آباد (آئی این پی )اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دئیے ہیں کہ عدلیہ، پارلیمنٹ، ایگزیکٹو سب زوال پذیر ہیں، اب امیدیں صرف نوجوان نسل سے ہیں۔ عدالت عالیہ نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن( ایف پی ایس سی) کو سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس ) کے نتائج جاری کرنے سے پہلے نئے امتحانات سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ پاکستان میں رہنا مستقل لڑائی ہے، 24 سے 25 کروڑ لوگ ہیں، لڑائی کرنے والے زیادہ اور بچنے والے کم ہیں۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عدلیہ ریاست کا ستون ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ریاست کا ستون تو ہوا میں ہی ہے، پھر بھی مایوس نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت 45 سال سے زائد عمر کے لوگ ناکارہ ہیں، نوجوانوں نے ہی اس ملک کے لیے کچھ کرنا ہے۔انہوں نے ریمارکس دئیے کہ عدلیہ، پارلیمنٹ، ایگزیکٹو سب زوال پذیر ہوچکے ہیں، اب امیدیں صرف نوجوان نسل سے ہیں۔دریں اثناء سپیکر  قومی اسمبلی  ایاز صادق نے قومی اسمبلی کو جعلی قرار دینے اور ایک جج کی جانب سے ایوان کے بارے میں ریمارکس کو  ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے وزیر قانون کو ہدایت دی  وہ معزز جج کو پیغام دیں کہ  اس طرح کا بیان پارلیمنٹ کیلئے قابل قبول نہیں ہے، اس طرح سسٹم نہیں چلتا، یہ پارلیمنٹ پر حملہ ہے، الیکشن کمیشن سے متعلق حکومت اور اپوزیشن کو خط لکھ دیا گیا ہے، اور کسی کو بھی پارلیمنٹ کے خلاف بیان دینے کا حق نہیں ہے